.

سوڈان کی فوج 25 برس بعد ایتھوپیا کی سرحد کے نزدیک زرعی اراضی میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی فوج ایتھوپیا کے صوبے ٹگرے کے مقابل واقع علاقوں میں داخل ہو گئی ہے جہاں ایتھوپیا کی ایک مقامی ملیشیا "الشفتا" کا قبضہ ہے۔ یہ بات العربیہ کے ذرائع نے جمعے کے روز بتائی۔ ذرائع کے مطابق سوڈانی فوج نے 25 برس میں پہلی مرتبہ ایتھوپیا کے ساتھ سرحد کے نزدیک زرعی علاقوں کو واپس کنٹرول میں لے لیا۔

سوڈانی فوج نے مذکورہ طویل عرصے کے بعد "خور يابس" کے عسکری کیمپ کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اس اہم اقدام کے بعد ایتھوپیا کی حکومت کی حمایت یافتہ اس ملیشیا کے قبضے میں موجود رقبہ آدھا رہ گیا ہے۔

یاد رہے کہ ایتھوپیا کی مشرقی سرحد پر ایتھوپیا اور سوڈان کے درمیان سرحدی تنازع بھڑک اٹھا تھا۔

یہ اپنی نوعیت کا پہلا تنازع نہیں ہے تاہم اس کے بھڑکنے کا وقت اور پھر سوڈانی فوج کا رد عمل یہ ایسے امور ہیں جنہوں نے اس بحران پر روشنی ڈالی ہے۔

الفشقہ کا علاقہ سوڈانی ریاست القضارف کا حصہ ہے۔ یہاں 6 لاکھ ایکڑ رقبے پر زرخیز زرعی اراضی پائی جاتی ہے۔ یہ علاقہ سوڈان اور ایتھوپیا کی سرحد پر 168 کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ اس کا رقبہ 5700 مربع کلو میٹر ہے۔

Ethiopia and Sudan

گذشتہ صدی میں 1950ء کی دہائی سے ایتھوپیا کے کاشت کار اس اراضی میں دراندازی کرتے آ رہے ہیں۔ اس کے سبب ایتھوپیا کی ملیشیا کی جانب سے 1500 ایکڑ زرعی ارضی پر سرحدی نشانیاں لگائے جانے کے بعد علاقے میں سرحد کی حد بندی کے لیے بارہا مطالبے سامنے آئے۔

سال 1995ء میں دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے ایک معاہدے میں سرحدی علاقے کو حکومتی افواج سے خالی کرنے پر اتفاق رائے ہوا۔ اس کے نتیجے میں سوڈان کی جانب سے عسکری کنٹرول "پاپولر ڈیفنس فورسز" اور ایتھوپیا کی جانب سے "الشفتا" ملیشیا کے حوالے کیا گیا۔ علاقے کو سرکاری افواج سے خالی کرنے کا نتیجہ ایتھوپیا کے کاشت کاروں کی پاپولر ڈیفنس فورسز کے ساتھ مسلسل جھڑپوں کی صورت میں سامنے آیا۔

سال 1957ء میں ایتھوپیا نے اپنے کاشت کاروں کے کام کرنے کے ذریعے علاقے پر دراندازی سے قبضہ جما لیا۔

بعد ازاں 1992ء میں معاملات میں مزید بگاڑ آیا جب ایتھوپیا کی فوج کی سپورٹ کے ساتھ ایتھوپیائی کاشت کاروں نے علاقے میں مزید دراندازی کرتے ہوئے آگے تک قبضہ کر لیا۔ اس دوران وہاں سے سوڈانی کاشت کاروں کو بھگا دیا گیا۔ سال 2013ء میں دونوں ملکوں کے بیچ سرحد کی حد بندی سے متعلق کمیٹیاں ایک معاہدے تک پہنچ گئیں جس کے تحت الفشقہ کی اراضی سوڈان کو واپس دی جانی تھی تاہم اس پر عمل درامد نہیں ہوا۔

سال 2017ء میں دونوں جانب سے سرحدی حد بندی کے سمجھوتے تک پہنچنے کا اعلان کیا گیا تاہم اس میں الفشقہ کا علاقہ شامل نہیں تھا۔ کہا گیا کہ اس علاقے کے حوالے سے مذاکرات ہوں گے۔ اسی طرح سوڈانی حکومت نے یہ حکم بھی جاری کیا کہ سوڈانی کاشت کار اپنی اراضی ایتھوپیا کے کاشت کاروں کو کرائے پر نہیں دے سکیں گے۔

دوسری جانب ایتھوپیا اس مسئلے کو حل کرنے کے سلسلے میں ٹال مٹول سے کام لیتا رہا۔

اگست 2018ء میں سوڈان اور ایتھوپیا سرحد پر مشترکہ افواج تعینات کرنے پر متفق ہو گئے تا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو ختم کیا جا سکے۔