بحرین نے مقبوضہ عرب علاقوں میں تیار اسرائیلی مصنوعات بارے اپنا موقف واضح‌ کر دیا

وزیر صنعت وتجارت کی غرب اردن سے اسرائیلی مصنوعات کی درآمد سے متعلق بیان کی ترید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

بحرینی حکومت نے فلسطین کے دریائے اردن کے مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی کارخانوں میں تیار ہونے والی مصنوعات کی خریداری اور ان کی بحرین درآمد کے بارے میں اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ منامہ نے متنازع کالونیوں اور کارخانوں کی مصنوعات کی خریداری کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

بحرین کی وزارت صنعت، تجارت اور سیاحت کے سرکاری ذرائع نے وزیر برائے امور خارجہ زید بن راشد الزیانی کی طرف سے ایک اسرائیلی صحافی کو مغربی کنارے اور گولان کی پہاڑیوں تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد سے متعلق اس بیان کی تردید کی ہے۔

ذرائع نے بحرین الیوم اخبار کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ وزیر کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بحرین اقوام متحدہ، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم"او آئی سی" کے فیصلوں پر عمل درآم کرتے ہوئے مغربی کنارے اور شام کی گولان پہاڑیوں میں اسرائیلی آباد کاری کےحواکے سے اپنے روایتی موقف پر قائم ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز بعض عرب اور فلسطینی اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ بحرینی وزیر خارجہ نے اپنے دورہ اسرائیل کے دوران ایک اسرائیلی صحافی کو کہا تھا کہ ان کا ملک اسرائیل اور مغربی کنارے میں تیار ہونے والی مصنوعات میں کوئی فرق نہیں کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں