.

بحرین نے مقبوضہ عرب علاقوں میں تیار اسرائیلی مصنوعات بارے اپنا موقف واضح‌ کر دیا

وزیر صنعت وتجارت کی غرب اردن سے اسرائیلی مصنوعات کی درآمد سے متعلق بیان کی ترید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرینی حکومت نے فلسطین کے دریائے اردن کے مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی کارخانوں میں تیار ہونے والی مصنوعات کی خریداری اور ان کی بحرین درآمد کے بارے میں اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ منامہ نے متنازع کالونیوں اور کارخانوں کی مصنوعات کی خریداری کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

بحرین کی وزارت صنعت، تجارت اور سیاحت کے سرکاری ذرائع نے وزیر برائے امور خارجہ زید بن راشد الزیانی کی طرف سے ایک اسرائیلی صحافی کو مغربی کنارے اور گولان کی پہاڑیوں تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد سے متعلق اس بیان کی تردید کی ہے۔

ذرائع نے بحرین الیوم اخبار کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ وزیر کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بحرین اقوام متحدہ، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم"او آئی سی" کے فیصلوں پر عمل درآم کرتے ہوئے مغربی کنارے اور شام کی گولان پہاڑیوں میں اسرائیلی آباد کاری کےحواکے سے اپنے روایتی موقف پر قائم ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز بعض عرب اور فلسطینی اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ بحرینی وزیر خارجہ نے اپنے دورہ اسرائیل کے دوران ایک اسرائیلی صحافی کو کہا تھا کہ ان کا ملک اسرائیل اور مغربی کنارے میں تیار ہونے والی مصنوعات میں کوئی فرق نہیں کرتا ہے۔