.

قاہرہ فلم فیسٹول میں فلسطینی فلم کو بھرپور پذیرائی حاصل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں 42 ویں 'قاہرہ انٹرنیشنل فلم فیسٹول' میں جمعے کے روز پیش کی جانے والی فلم "Gaza Mon Amour" کو عوام کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔ فلم کے شو میں عرب اور غیر ملکی فن کاروں اور فنی ناقدین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

فلم کے ہدایت کار دو جڑواں بھائی عرب ناصر اور طرزان ناصر ہیں۔ یہ مشرق وسطی اور شمالی افریقا میں اس فلم کی پہلی نمائش تھی۔ اس فیلم کو فلسطین آسکر کمیٹی نے آئندہ اپریل میں ہونے والے 93 ویں اکیڈمی ایوارڈز میں غیر ملکی زبان کی کیٹیگری کے لیے نامزد کر دیا ہے۔ فیلم کا پریمیر شو وینیسیا میں "آفاق" فیسٹول کے دوران پیش کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ٹورنٹو فیسٹول میں اس فلم نے بہترین ایشیائی فلم کے طور پرNETPAC ایوارڈ حاصل کیا۔

فلم کی کہانی ایک 60 سالہ مچھلی فروش عیسی کے گرد گھومتی ہے جو منڈی میں اپنے پڑوس میں کپڑوں کی فروخت کا کام کرنے والی بیوہ خاتون سہام کی محبت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ تاہم سہام سے اپنی محبت کے اظہار سے قبل عیسی کو سمندر میں Apollo کا ایک قدیم مجسمہ مل جاتا ہے۔ اس کے سبب عیسی کی محبت کی کہانی رک جاتی ہے اور اسے غیر متوقع حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

فلم میں غزہ کے لوگوں کو درپیش دشوار حالات کی تصویر پیش کی گئی ہے۔ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود یہ لوگ زندگی اور پیار کے درپے رہتے ہیں۔ فلم میں مزاح کو نرم اور رنجیدہ ماحول کے ساتھ ایک ہی وقت میں پیش کیا گیا ہے۔

فلم کے پیش کار رانی مصالحہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ فلم کی تیاری اور عکس بندی کے حالات آسان نہ تھے۔ عکس بندی ایک سے زیادہ ملکوں میں تھی۔ بعض مناظر اردن اور پرتگال میں عکس بند کیے گئے۔ ان کے مطابق خوش قسمتی یہ رہی کہ فلم کی عکس بندی کرونا کی وبا پھیلنے سے قبل مکمل کر لی گئی تھی۔

رانی نے مزید بتایا کہ یہ فلم غزہ میں پیش آنے والے ایک حقیقی واقعے پر مبنی ہے۔ ایک مچھیرے کو سمندر میں Apollo کا مجسمہ ملا تھا۔ فلسطینی تنظیم حماس نے اس مجسمے کو قبضے میں لے کر اس کا خریدار تلاش کرنا شروع کر دیا۔ اس امید کے ساتھ کہ ملک کو درپیش مالی مشکلات کا حل مل جائے گا۔ تاہم اس کے بعد مجسمے کا کیا ہوا یہ کوئی نہیں جانتا۔

فلم کے ایک مرکزی کردار ادا کرنے والے فن کار محمد نزار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ وہ اس فلم کا حصہ بننے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہدایت کار عرب ناصر اور طرزان ناصر کا نام سنتے ہی وہ اس فلم کو کرنے پر آمادہ ہو گئے کیوں کہ ان دونوں کا نام اور ان کا کام ممتاز حیثیت کا حامل ہے۔