.

عراق میں داعش کی باقیات نشانے پر ... سنجار میں مسلح گروپوں کی موجودگی ممنوع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے صوبے نینویٰ کے مغرب میں سنجار کے ضلع میں کسی بھی مسلح فورس کی موجودگی کی اجازت نہیں ہو گی۔ یہ بات عراقی خبر رساں ایجنسی نے اتوار کے روز بتائی۔

نینویٰ کے مغرب میں سیکورٹی فورسز کے آپریشنز کمانڈر میجر جنرل جبار الطائی کے مطابق وفاقی حکومت اور کردستان ریجن کے درمیان دستخط کیے گئے معاہدے کے تحت اس وقت سنجار ضلع کی سیکورٹی صرف فوج ، مقامی پولیس اور سیکورٹی اداروں کی ذمے داری ہے جس میں انٹیلی جنس کے ساتھ رابطہ کاری شامل ہو گی۔

انہوں نے باور کرایا کہ ضلع کے اندر کسی بھی دوسری مسلح یا غیر مسلح سیکورٹی فورس کی موجودگی یا سیکورٹی کی صورت حال کے حوالے کسی تصرف کی اجازت نہیں وہ گی۔

نینویٰ کی صوبائی حکومت نے باور کرایا ہے کہ حکومت سنجار میں امن و استحکام کو قائم کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ اس کا مقصد خدمات کی بحالی اور تعمیر نو کا آغاز کرنا ہے۔

دوسری جانب عراقی مسلح فورسز کے جنرل کمانڈر کے ترجمان نے اتوار کے روز تصدیق کی ہے کہ بین الاقوامی اتحاد کے طیاروں نے صلاح الدین صوبے کے ضلع بلد کے جنوب میں دو فضائی حملے کیے۔ اس دوران داعش تنظیم کے دو اڈوں کو تباہ کر دیا گیا۔ عراقی فوج کے ترجمان نے واضح کیا کہ یہ حملے عراقی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مشترکہ آپریشنز کی قیادت کے حکم پر کیے گئے۔

ایک علاحدہ بیان میں مشترکہ آپریشنز کی کمان نے تصدیق کی ہے کہ بین الاقوامی اتحاد کے طیاروں نے سامراء آپریشنز کے ضمن میں تل الذھب کے علاقے میں ایک باغیچے پر بم باری کی۔ اس کے نتیجے میں 5 دہشت گرد ہلاک ہو گئے اور ان کا اڈہ تباہ ہو گیا۔