.

محسن فخری زادہ کو 4 یا پانچ گولیاں ماری گئیں، جو جان لیوا ثابت ہوئیں: بیٹوں کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ جمعہ کو تہران میں قتل ہونے والے ایرانی جوہری سائنسدان ،محسن فخری زادہ کے بیٹوں نے بتایا کہ ان کے والد کو چار یا پانچ گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ بات جمعہ کے روز سرکاری ایرانی میڈیا کے ذریعہ نشر کیے گئے ایک انٹرویو میں بتائی گئی۔

امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کے خالق محسن فخری زادہ تہران میں ایک کمین گاہ کے ذریعے جدید ترین"فوجی انداز" کے ایک حملے میں مارا گیا۔ان پرپہلے ایک کار کے ذریعے خود کار ذریعے سے فائرنگ کی گئی اس کے بعد اس گاڑی کو بارود سے اڑا دیا گیا۔

ایران نے 27 نومبر کو اپنے سائنسدان کے قتل کا الزام اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے اس کا بدلہ لینے کی دھمکی دی تھی۔ تاہم اسرائیل نے ایرانی الزامات کے جواب میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

ایرانی آئی آر آئی نیوز ایجنسی کے ذریعہ نشر ہونے والے ٹی وی انٹرویو کے حوالے سے فخری زادہ کے بیٹوں کا بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ یہ حقیقی معنوں میں ایک جنگی کارروائی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قتل کے دوران ان بچے بھی فخری زادہ کے ساتھ تھے حالانکہ کچھ ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ا ان کے کنبے کے کچھ افراد بھی اس کار میں ان کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔

فخری زادہ کے بیٹے نے بتایا کہ ان کی والدہ کار میں والد کے پاس بیٹھی تھیں جب انہیں گولی ماری گئی لیکن اس کارروائی میں ان کی ماں محفوظ رہیں‌۔ جبکہ نیو یارک ٹائم کی ایک سابقہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فخری زادہ کی اہلیہ بھی اس حملے کے دوران زخمی ہو گئی تھی۔

فخری زادہ کے ایک بیٹے کہا کہ میرے والد کو چار یا پانچ بار گولی ماری گئی۔ فخری زادہ کے بیٹوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے نے مزید کہا کہ سیکیورٹی ٹیم نے فخری زاد ہ کو قتل کے دن سفر کرنے سے روکا تھا لیکن اس کے باوجود وہ ایک اجلاس میں شرکت کے لیے گھر سے روانہ ہو گئے تھے۔

جہاں تک فخری زادہ کے قتل میں اسرائیلی ہتھیاروں کے استعمال کی بات ہے تو ناقدین نے ایران پر تنقید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا کہ ایران کا یہ دعویٰ‌کہ فخری زادہ کو سیٹلائٹ سے کنٹرول کی جانے والی ایک گن سے نشانہ بنایا گیا مضحکہ خیز ہے۔ اس طرح کے بیانات فخری زادہ کی جان بچانے اور قاتلوں کو پکڑنے میں ناکامی کو چھپانے کے لیے دیے جا رہے ہیں۔

فخری زادہ کے قتل سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت ملازمت کے آخری دنوں میں امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ایرانی سائنسدان کا قتل ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا کے نو منتخب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ صدر منتخب ہونے کے بعد وہ ایران کے ساتھ طے پایا جوہری معاہدہ بحال کریں گے۔