.

ایران سے کشیدگی میں اضافہ؛ امریکا کا عراق میں سفارتی عملہ کم کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے ایران سے کشیدگی بڑھنے کے ساتھ عراق میں تعینات اپنا سفارتی عملہ احتیاطی تدابیر کے تحت کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے تصدیق کی کہ حکومت نے آنے والے ہفتوں میں بغداد میں اپنے سفارتخانے سے کچھ عملہ واپس بلا رہی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایک حکومتی عہدہ دار نے انکشاف کیا ہے کہ عراق سے امریکی سفارتی عملہ کی جزوی واپسی کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں‌ کیا گیا ہے جب تین جنوری کو ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا ایک سال پورا ہو رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ امریکاکا قومی سلامتی کونسل کی پالیسی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اسی ہفتے کیا گیا تھا۔ ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ آیا امریکا بغداد سے اپنا کتنا سفارتی عملہ واپس بلا رہا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے وہ پوری دنیا میں اپنے سفارتی عملہ میں ردو بدل کررہا ہے تاہم عراق سے فوجیوں کی واپسی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

مذکورہ عہدہ دار کا کہنا تھا کہ امریکی سفیر میتھیو ٹوائلر ابھی تک عراق میں موجود ہیں اور سفارت خانہ بدستور کام کر رہا ہے۔

امریکی سفارت خانہ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شائع کردہ ایک ویڈیو کلپ میں ٹوائلر نے اعلان کیا کہ یہ کمی عارضی ہے اور اس سے ملازمین کی تعداد یا ان کے کام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ عراق میں ایران کی حامی ملیشیائیں جان بوجھ کر متعدد شہروں اور علاقوں میں اپنے عناصر کو متحرک کر رہی ہیں۔ امریکا کی طرف سےعراق سے اپنے سفارتی عملہ میں کمی سے قبل حال ہی میں ایران کے چوٹی کے جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کو تہران میں قتل کر دیا گیا تھا۔ ایران نے اس کارروائی میں امریکا اور اسرائیل کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے اس قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

سینیر سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ایران نواز گروہ عراق کے شمالی صوبہ نینویٰ کے میدانی علاقوں اور سنجار کے پہاڑی علاقے میں اپنے جنگجوؤں کو متحرک کرنے کے ساتھ اپنی صفوں میں رضاکاروں کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں اور اس علاقے میں مزید فوجی سازوسامان پہنچایا جا رہا ہے۔