.

غزہ میں کِٹس کی عدم دستیابی؛حماس کا کووِڈ-19 کے تشخیصی ٹیسٹ روکنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی میں کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے جبکہ اسرائیل کے محاصرے کا شکار اس علاقے کی حکمراں حماس کا کہنا ہے کہ اس کے پاس وافر تعداد میں کِٹس دستیاب نہیں ہیں ،اس لیے اب وہ کووِڈ-19 کے مزید ٹیسٹ کرنے سے قاصر ہے۔

حماس کی وزرات صحت نے غزہ کے مصورین کے کووِڈ-19 کے ٹیسٹوں کے لیے ضروری آلات ہنگامی بنیاد پر مہیا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزارت صحت نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’غزہ شہر میں صرف ایک لیبارٹری میں کووِڈ-19 کے نمونوں کا تجزیہ کیا جارہا تھا لیکن اس میں بھی اب ضروری آلات کی عدم دستیابی کی وجہ سے کام بند کردیا گیا ہے۔‘‘

حماس کے سینیر عہدہ داراور سابق وزیر صحت باسم نعیم نے الگ سے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ’’حکام یومیہ ڈھائی ہزار سے تین ہزار تک کرونا وائرس کے ٹیسٹ کررہے تھے اور ان پر 75 ہزار سے ایک لاکھ ڈالر کے درمیان لاگت آرہی تھی۔‘‘

مگر اب ان کے بہ قول غزہ میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے، شہریوں کی زندگیاں بچانے اور بحران پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ حماس کے حکام نے کرونا وائرس کی وبا کے ابتدائی دنوں ہی میں غزہ کی سرحدیں بند کردی تھیں اور صرف محدود تعداد میں لوگوں کو داخلے کی اجازت دی تھی۔ان پر بھی یہ پابندی عاید کی گئی تھی کہ انھیں آبائی علاقوں میں لوٹنے کے بعد تین ہفتے تک الگ تھلگ رہنا ہوگا۔

ان احتیاطی تدابیر کی بدولت اگست کے وسط تک غزہ میں کرونا وائرس کے صرف ایک سو تشخیص شدہ کیس ریکارڈ کیے گئے تھے لیکن گذشتہ دو ہفتے کے دوران میں کووِڈ-19 کے کیسوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ان کی تعداد 25 ہزار سے متجاوز ہوچکی ہے۔

حماس نے گذشتہ جمعرات کو 11 دسمبر سے اس ماہ کے آخر تک اختتام ہفتہ پر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔اس نے کرونا وائرس کی وَبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اسکول ، جامعات ، کنڈرگارٹن اور مساجد کو بند کررکھاہے۔

یادرہے کہ غزہ پٹی کا اسرائیل نے 2007ء سے برّی اور بحری محاصرہ کررکھا ہے اور یہ فلسطینی علاقہ باقی دنیا سے بالکل کٹا ہوا ہے۔اس کی آبادی 20 لاکھ نفوس کے لگ بھگ ہے۔اب ماہرین اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ دنیا کی اس سب سے بڑی کھلی جیل میں کرونا کے کیسوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

غرب اردن

دریں اثناء ادھر اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے میں فلسطینی اتھارٹی کی حکومت نے گیارہ میں سے چار علاقوں میں ایک ہفتے کے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔

فلسطینی وزیراعظم محمد اشتیہ نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’چار گورنریوں نابلس ، الخلیل (حبرون)، بیت لحم اور تلکرم میں جمعرات 10 دسمبر کی شب سے سات روز تک مکمل لاک ڈاؤن رہے گا۔تمام تجارتی ،کاروباری اور خدمات کی سرگرمیوں کو بند کردیا جائے گا۔ البتہ دواخانے ،بیکریاں ، سپرمارکیٹیں اور گراسری اسٹور اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔‘‘

فلسطینی اتھارٹی نے اس اقدام سے قبل نومبر کے آخر میں غربِ اردن میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے دو ہفتے تک اختتام ہفتہ کے علاوہ رات کا کرفیو نافذ کردیا تھا۔اب اس نے 17 دسمبر تک اس کرفیو کی مدت میں توسیع کردی ہے۔

غرب اردن میں فلسطینی اتھارٹی نے اب تک کووِڈ-19 کے 74160 کیسوں کی تشخیص کی اطلاع دی ہے۔ان میں قریباً 700 مریض وفات پاچکے ہیں۔غزہ میں حکام نے کووِڈ-19 کے قریباً 25600 کیسوں کا اندراج کیا ہے۔ان میں سے 150 مریض چل بسے ہیں۔