.

تنقید کا ردعمل، حزب اللہ عناصر کا خاتون صحافی پر حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں موجود ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ ملیشیا کی طرف سے سیاسی مخالفین، ناقدین اور صحافیوں کو شرانگیز حملوں کا سامنا ہے۔ اس کی تازہ مثال حزب اللہ کے نظریات سے اختلاف کرنے والی ایک صحافی پر ہونے ولا حملہ ہے جس میں اسے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ہفتے کے روز حزب اللہ کے حامی شدت پسندوں نے صحافیہ مریم سیف الدین کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے جان سے مار ڈالنے کی دھمکیاں دیں۔

خیال رہے کہ مریم سیف الدین پہلی خاتون نہیں جنہیں حزب اللہ عناصر کی طرف سے زد و کوب کیا گیا ہے۔ لبنان میں حزب اللہ کی مخالفت میں‌ بولنے والے کسی بھی شہری کو اسی طرح کے انتقامی حربوں کا سامنا رہتا ہے۔

تشدد کا شکار ہونے والی صحافیہ مریم نے سماجی رابطوں‌ کی ویب سائٹ' فیس بک' پر اس واقعے کے تفصیلات لکھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چند ہفتے قبل میں نے ایک مقامی اخبار'ندا الوطن' میں ایک مضمون لکھا۔ اس مضمون میں میں نے حزب اللہ کی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔

اس کا کہنا تھا کہ وہ دفتر سے گھر لوٹ رہی تھی کہ راستے میں گھات لگائے حزب اللہ عناصر کےایک گروپ نے اسے پکڑا اور اسے حزب اللہ کے خلاف لکھے گئے مضمون کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ آپ نے اس مضمون میں حدود سے تجاوز کیا ہے۔ آپ کا انجام بھی فلاں فلاں کے ساتھ ہو گا۔