.

آیت اللہ خمینی کی مبینہ توہین پر ایرانی صدر کا مشیر کٹہرے میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک سینیر حکومتی عہدیدار اور صدر کے معاون خصوصی عیسیٰ کلانتری کو قانون اور عدالت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایرانی جوڈیشل اتھارٹی نے کلانتری کا کیس عدالت کو منتقل کر دیا ہے۔

ایرانی جوڈیشل کونسل کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی نے منگل کے روز بتایا کہ حسن روحانی کے معاون اور تحفظ ماحولیات تنظیم کے سربراہ کے خلاف متعدد موضوعات کے کیسز ہیں۔ حال ہی میں عدالت نے انہیں طلب کیا تھا۔

خیال رہےکہ عیسیٰ کلانتری کو چند روز قبل عدالت کی طرف سے پیشی کا حکم دیا گیا تھا۔ ان پر ایرانی انقلاب کے بانی آیت اللہ علی خمینی کی مبینہ توہین کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

غلام حسین اسماعیلی نے کہا تھا کہ کلانتری کا کیس پبلک پراسیکیوٹر اور انقلاب عدالت کے سامنے کھلا ہے۔ ان پر متعدد الزامات عاید ہیں۔

اسماعیلی کا کہنا تھا کہ ساری شہر کو دلدل میں دھکیلنے، سائبر اسپیس اور بعض دوسرے الزامات میں حکومتی عہدیدار سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ کلانتری نے پانچ دسمبر کو ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ایران میں ولایت فقہیہ کے بانی آیت اللہ علی خمینی کو 'امریکا کا نافرمان بچہ' قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے سنہ 1979ء کے انقلاب کے بعد ایرانی بادشاہ کو تنہا چھوڑ دیا تھا حالانکہ رضا شاہ نے پوری زندگی امریکیوں‌ کی چاکری کی تھی۔

ایرانی صدر کے مشیر عیسیٰ کلانتری کا آیت اللہ علی خمینی سے متعلق متنازع بیان سوشل میڈیا ویب سائٹس پر وائرل ہوا جس پر ایرانی عدلیہ حرکت میں آئی اور اس گفتگو کو متنازع قرار دے کر اس کا نوٹس لیا گیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں کلانتری نے کہا کہ امریکیوں نے اپنے وفادار ایرانی بادشاہ کو تنہا چھوڑ دیا۔ اس موقعے سے امام خمینی نے فائدہ اٹھایا۔ ان کے اس بیان پر انہیں عدالت میں طلب کیا گیا اور ان پر فردم جرم عاید کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

تاہم عدالت کی طرف سے کارروائی شروع کیے جانے کے بعد عیسیٰ کلانترے نے اپنے الفاظ واپس لینے کے ساتھ معذرت بھی کی ہے۔

خیال رہے کہ عیسیٰ کلانترے ایران کے سینیرسیاست دان ہیں۔ ان کے بڑے بھائی موسیٰ کلانترے سابق صدر ابوالحسن بنی صدر کی حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں۔ عیسیٰ کلانترے میر حسین موسوی،ہاشمی رفسنجانی اور اصلاح‌پسند محمد خاتمی جیسے صدور کے دور میں زراعت کے شعبے وزیر رہ چکے ہیں۔