.

سعودی کابینہ کے اجلاس میں علاقائی اور بین الاقوامی امور کا جائزہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں کابینہ کا ورچوئل اجلاس منگل کے روز خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صدارت میں ہوا۔

کابینہ نے کرونا وائرس کے پس منظر میں مقامی اور بین الاقوامی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں اور اس وبا کی ویکسین کی تیاری کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا۔ ساتھ ہی مملکت میں کرونا کے کیسوں کے اندراج کے تازہ ترین اعداد و شمار کو بھی زیر بحث لایا گیا جن میں بدستور کمی واقع ہو رہی ہے۔

سعودی کابینہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 31 ویں خصوصی اجلاس میں کرونا کی وبا سے نمٹنے کے طریقے تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دینے سے متعلق سعودی عرب کے موقف پر بھی روشنی ڈالی۔ مملکت کے موقف میں کہا گیا کہ کرونا کی ویکسین تمام ممالک تک پہنچائے جانے اور اس سے شفایابی کے لیے حکمت عملی ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی مستقبل میں وباؤں سے بہتر طور پر نمٹنے کے لیے تیاری کی جائے۔

قائم مقام سعودی وزیر اطلاعات ڈاکٹر ماجد القصیبی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کابینہ نے عرب دنیا اور علاقائی اور بین الاقوامی امور سے متعلق حالات و واقعات اور تازہ ترین پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اس سلسلے میں باور کرایا گیا کہ مملکت عرب ممالک کے اندرونی معاملات میں علاقائی مداخلت اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششوں کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ علاوہ ازیں بین الاقوامی قرار دادوں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے خطے کے بحرانات کے حل کے واسطے عرب لیگ کے کردار کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔

القصیبی کے مطابق سعودی عرب نے ایک بار پھر اپنا یہ موقف دہرایا ہے کہ مسئلہ فلسطین عرب دنیا کا ایک بنیادی قضیہ ہے۔ مملکت 2002ء میں پیش کیے گئے عرب امن منصوبے پر سختی سے قائم ہے۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ فلسطینی اراضی پر اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ روکا جائے جو بین الاقوامی قانون اور فلسطینیوں کے حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ علاوہ ازیں سعودی عرب لبنان میں سیاسی اور اقتصادی اصلاحات کی مکمل تائید کرتا ہے اور برادر لبنانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

سعودی کابینہ نے ایک بار پھر ایران نواز حوثی ملیشیا کی جانب سے مملکت کے شہری علاقوں کی جانب دھماکا خیز ڈرون طیاروں کے ذریعے حملوں کی کوششوں کی مذمت کی۔ کابینہ کے مطابق شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ایک مذموم عمل اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔