.

شام میں جاری خانہ جنگی میں ہلاکتوں کی تعداد تین لاکھ 87 ہزار سے متجاوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں گذشتہ قریباً ایک عشرے سے جاری خانہ جنگی میں ہلاکتوں کی تعداد تین لاکھ 87 ہزار سے متجاوز ہوگئی ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بدھ کو ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ رواں سال کے دوران میں ہلاکتوں کی تعداد گذشتہ برسوں کے مقابلے میں کم رہی ہے۔اس نے اپنے فراہم شدہ اعداد وشمار میں مزید 117000شہریوں کی ہلاکتیں شامل کی ہیں۔ان میں 22 ہزار بچے بھی شامل ہیں۔

رصدگاہ نے قبل ازیں جنوری میں شام میں جاری جنگ میں کام آنے والے افراد کے اعداد وشمار جاری کیے تھےاور ان کی تعداد تین لاکھ 80 ہزار سے زیادہ بتائی تھی۔رصدگاہ ان اعدادوشمار کے لیے شام میں موجود اپنے وسیع نیٹ ورک پر انحصار کرتی ہے۔ان میں رضا کار، طبی کارکنان اور انسانی حقوق کے کارکنان شامل ہیں۔

رصدگاہ کے فراہم کردہ نئے اعداد وشمار کے مطابق تمام مہلوکین میں ایک لاکھ ساڑھے تیس ہزار حکومت نواز جنگجو اور فوجی بھی شامل ہیں۔ان میں نصف سے زیادہ شامی فوجی ہیں۔لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے 1703 جنگجو مارے جا چکے ہیں۔حزب اللہ شامی صدر کی حمایت میں 2013ء سے باغی گروپوں کے خلاف لڑرہی ہے۔

شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خلاف پُرامن مظاہروں سے شروع ہونے والی لڑائی میں 57 ہزار سے زیادہ غیر جہادی شامی جنگجو مارے گئے ہیں۔ساڑھے 67 ہزار سے جہادی مارے گئے ہیں۔ان میں زیادہ ترکا تعلق داعش اور شام میں القاعدہ سے وابستہ سابقہ گروپ ہیئت تحریرالشام سے تھا اور ان میں کی ایک بڑی تعداد غیرملکی جنگجوؤں کی تھی۔

داعش اور ترک فورسز کے خلاف لڑائی میں امریکا نواز شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) کے ساڑھے 12 ہزار سے زیادہ جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔شامی رصدگاہ کا کہنا ہے کہ ان مہلوکین میں حکومت کے زیرانتظام جیلوں یا حراستی مراکز میں تشدد سے جان کی بازی ہارنے والے 88 ہزار افراد شامل نہیں ہیں۔اس کے علاوہ تنازع کے دوران میں اغوا کیے گئے ہزاروں افراد بھی شامل نہیں ہیں۔انھیں شامی فورسز نے اغوا کے بعد غائب کردیا تھا اور آج تک ان کا کچھ اتا پتانہیں چل سکا۔

واضح رہے کہ 2011ء کے اوائل میں شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے پُرامن احتجاجی مظاہرین کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا تھا اور پھر یہ مکمل جنگ میں تبدیل ہوگئی تھی۔ایک وقت میں بشارالاسد کی حکومت کی عمل داری میں شام کے صرف 30سے 35 علاقے رہ گئے تھے اور ملک کے باقی علاقوں پر مسلح جنگجو گروپوں نے قبضہ کرلیا تھا۔

لیکن 2015ء میں روس اور ایران کی فوجی مداخلت کے بعد شام میں جاری خانہ جنگی کا رُخ تبدیل ہوگیا تھا اور بشارالاسد کی وفادار فوج ایران نواز ملیشیاؤں اور روس کی بری اور فضائی فوج کی مدد سے باغیوں کے زیر قبضہ بیشترعلاقوں کو چھڑوانے میں کامیاب ہوگئی تھی۔

اس وقت اسد حکومت کی قریباً 70 فی صد علاقوں میں عمل داری قائم ہوچکی ہے اورصرف شمال مغربی صوبہ ادلب اور اس سے متصل دوسرے علاقوں پر باغی گروپوں کا کنٹرول باقی رہ گیا ہے۔اس کے علاوہ شام کے شمال میں واقع سرحدی علاقے ترک فورسز کے کنٹرول میں ہیں جبکہ ملک کے شمال مشرقی علاقوں پر امریکا نواز کرد فورسز نے قبضہ کررکھا ہے۔

واضح رہے کہ شام میں جنگ کے عروج کے دنوں میں ملک کی نصف سے زیادہ آبادی بے گھر ہوگئی تھی۔اقوام متحدہ کے مطابق اس وقت بھی قریباً 67 لاکھ شامی اندرون ملک در بدر ہیں جبکہ 55 لاکھ شامی بیرون ملک مہاجرین کے طور پر رجسٹر ہیں اور وہ ترکی ، اردن کے علاوہ مغربی ممالک میں مہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔