.

تنظیمِ آزادیِ فلسطین کی اعلیٰ عہدہ دارحنان عشراوی مستعفی ،سیاسی اصلاحات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تنظیمِ آزادیِ فلسطین ( پی ایل او) کی اعلیٰ عہدہ دار،فلسطینیوں کی تجربہ کار مذاکرات کار اورخواتین کے حقوق کی علمبردار حنان عشراوی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئی ہیں۔انھوں نے فلسطین کے سیاسی نظام میں وسیع تر اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔

74 سالہ عشراوی نے صدر محمود عباس کو جمعرات کو پیش کیے گئے اپنے استعفے کی وجہ بیان نہیں کی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ پی ایل او کی ایگزیکٹو کمیٹی کو فیصلہ سازی کے عمل میں دیوار سے لگادیا گیا ہے۔وہ خود بھی اس انتظامی کمیٹی کی رکن رہی ہیں۔عمررسیدہ صدر محمود عباس پندرہ ارکان پر مشتمل اس کمیٹی کے سربراہ ہیں اور وہ شاذ ہی اس کے اجلاس بلاتے ہیں۔

صدر محمود عباس نے ایک مختصر بیان میں کہاہے کہ انھوں نے حنان عشراوی کا استعفا منظور کر لیا ہے۔عشراوی نے بعد میں میڈیا کے لیے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ’’ فلسطین کے سیاسی نظام کی تجدید اور تنظیم نو کی ضرورت ہے،اس میں نوجوانوں ، خواتین اور اعلیٰ اہلیت کے حامل پیشہ ور حضرات کو شامل کیا جانا چاہیے۔‘‘

انھوں نے کہا:’’میں اس بات میں یقین رکھتی ہوں کہ درکار اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے اور پی ایل اوکواس انداز میں فعال بنانے کے ضرورت ہے کہ وہ اپنا حقیقی کردار ادا کرسکے۔‘‘

یادرہے کہ حنان عشراوی پی ایل او کی ترجمان اور اعلیٰ مذاکرات کار کی حیثیت سے 1990ء کے اوائل میں منظرعام پر آئی تھیں۔انھوں نے امریکا کی ثالثی میں 1991ء میں میڈرڈ میں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔ان مذاکرات میں انھوں نے پی ایل او کی ترجمان کی حیثیت سے دنیا کے سامنے فلسطینیوں کے لیے ایک الگ ریاست کا تصور پیش کیا تھا۔

انھوں ہی نے1993ء میں اسرائیل کے ساتھ اوسلو معاہدوں پر دست خط کیے تھے۔ان معاہدوں کے نتیجے میں فلسطینی اتھارٹی معرض وجود میں آئی تھی۔اس نے لیجنڈ فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کے زیر قیادت غربِ اردن میں اپنا نظام ونسق قائم کیا تھا اور حنان عشراوی اس کی کابینہ میں وزیر رہی تھیں۔

وہ خواتین کے حقوق کی علمبردار ہیں۔2009ء میں وہ پی ایل او کی ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن منتخب ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔وہ 2018ء میں دوبارہ اس کی رکن منتخب ہوئی تھیں اور پی ایل او کے شعبہ پبلک پالیسی اور ڈپلومیسی کی سربراہ رہ چکی ہیں۔