.

سعودی عرب: انسداد بدعنوانی کمیشن میں 120 فوج داری کیسز کی تحقیقات کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں انسداد بدعنوانی کمیشن نے کرپشن سے متعلق 120 فوج داری نوعیت کے کیسز کی تحقیقات شروع کی ہیں۔ ان کیسز میں مقامی ملزمان اور غیرملکیوں سمیت 184 افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی گئی ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی' ایس پی اے' کی طرف سے جاری ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ اینٹی کرپشن کمیشن کی جانب سے شروع کی گئی تحقیقات میں ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے مواد اکھٹا کیا جا رہا ہے۔

انسداد بدعنوانی کمیشن میں 110 ملین ریال کی رقم کا غبن شامل ہے۔ اس کیس میں ایک گورنری کی بلدیہ کے کچھ عہدیدار ملوث ہیں انہوں نے غیر مجاز طریقے سے تجارتی کمپنیوں میں 110 ملین ریال کی رقم کی رقم صرف کی ہے۔ اس کیس میں اب تک 38378411 ریال کی رقم قومی خزانے میں واپس کرائی گئی ہے جب کہ بقیہ رقم کے حصول کے لیے مقدمہ کی کارروائی جاری ہے۔

کرپشن کے دوسرے کیسز میں چیمبر آف کامرس کے چیئرمین کو 8 ملین ریال کی رقم کے خورد برد کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
کرپشن سے زیرسماعت تیسرے کیس میں وزارت اخلہ نے شہری دفاع کے شعبے میں کام کرنے والے افسران کو ایک غیرملکی کو کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان پر59 لاکھ 48 ہزار 5 سو 72 ریال کی کرپشن کا الزام ہے۔

چوتھے کیس میں وزارت داخلہ نے ایک کمپنی کے مالک سے غیرقانونی طریقے سے تجارتی پرمنٹ حاصل کرنے اور غیر مجاز طریقوں سے کاروبار کرنے کے الزام میں 20 لاکھ ریال کی کرپشن کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

پانچویں مقدمہ میں وزارت داخلہ نے ٹریفک پولیس کے تین افسروں اور چھ ملازمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انشورینس کمپنی کے 5 ملازمین کو بھی اسی کیس میں حراست میں لے کر ان سے 1918167 ریال کی رقم واپس لی گئی ہے۔

چھٹے کیس میں وزارت داخلہ نے کسٹمز حکام کے ساتھ مل کر تین ایشیائی ملزمان کو گرفتار کیا اور ان کے خلاف 1590000ریال کی کرپشن اور ممنوعہ اشیا کی مملکت میں اسمگلنگ کی تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔