.

مصری ڈاکٹر کا مفت علاج کرنے والے مرحوم مسیحا کا مشن جاری رکھنے کا فیصلہ

ڈاکٹر مشالی کی وفات کے بعد ان کا کلینک دوبارہ کھول دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں پوری زندگی ضرورت مند افراد کا مفت یا انتہائی کم پیسوں میں علاج کی بہ دولت شہرت پانے والے ڈاکٹر محمد مشالی کی وفات کے چند ماہ بعد ان کا مشن جاری رکھنے کے لیے مرحوم کا کلینک کھول دیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر کے ایک ڈاکٹر حسنی سعد قطب نے ڈاکٹر مشالی کا مشن جاری رکھنے کے لیے ان کا کلینک دوبارہ کھول لیا ہے۔

مصر میں مریضوں کا مفت علاج کرنے والے ڈاکٹر محمد مشالی شمال مغربی شہر طنطا میں‌ رہائش پذیر رہے اور انہوں‌ نے انتہائی کم پیسوں جن کی مالیت 10 مصری پاونڈ ہوتی تھی میں مریضوں کا علاج کرتے تھے۔

ان کی وفات کے بعد غریب مریضوں کے علاج کی امید دم توڑ گئی تھی مگر طنطا میں المشناوی جنرل اسپتال کے سرجری کنسلٹنٹ اور امراض جگر ڈاکٹر حسنی سعد قطب نے ڈاکٹر مشالی کا مشن جاری رکھتے ہوئے ان کا کلینک دوبارہ کھول لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ تمام غریب اور ضرورت مند مریضوں کا صرف ایک ڈالر کے برابر فیس یا مکمل طور پرمفت علاج کریں گے۔

ڈاکٹر حسنی قطب نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے انسان اور بعد میں ڈاکٹر ہیں۔ وہ غریب شہریوں کی امیدوں کے مرکز کو بند نہیں ہونے دیں گے۔ ڈاکٹر مشالی غریبوں کی امیدوں کا مرکز تھے۔ ان کی وفات کے ان کی کمی محسوس نہیں ہونے دی جائے گی۔

انہوں‌ نے کہا کہ کرونا کی وبا کے باعث علاج مزید مہنگا اور غریبوں کی پہنچ سے دور ہوچکا ہے مگر ہم مرحوم ڈاکٹر مشالی کا مشن جاری رکھیں‌ گے۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر محمد مشالی مصر کے شمالی شہر طنطا سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے نصف صدی سے زیادہ عرصہ اس شہر میں غریب مریضوں کا مفت علاج کیا اور ان کی خدمات کے اعتراف میں حکام نے انھیں ’’غریب کاڈاکٹر‘‘ کا خطاب دیا تھا۔

مصر کے ایک خبری ادارے قاہرہ 360 کے مطابق شہر میں ڈاکٹر مشالی کے تین کلینک تھے اور وہ وہاں لوگوں کا کوئی فیس لیے بغیر مفت علاج کیا کرتے تھے۔البتہ صاحب استطاعت افراد سے ایک مرتبہ طبی معائنے کی پانچ سے دس مصری پاؤنڈ فیس لیتے تھے اور یہ بہت معمولی رقم تھی۔

وہ دن میں 12 گھنٹے کام کرتے تھے۔ وفات کے وقت ان کی عمر 80 سال کے لگ بھگ تھی،اس کے باوجود وہ روزانہ 30 سے 50 مریضوں کو معائنہ کیا کرتے تھے۔ڈاکٹر مشالی غریب مریضوں کو ویکیسن بھی مفت مہیا کرتے تھے۔

ڈاکٹر مشالی نے ایک مرتبہ ایک انٹرویو میں لوگوں کے مفت علاج کا محرک بننے والے واقعہ کی تفصیل بتائی تھی۔ انھوں نے بتایا تھا کہ ’’ایک مرتبہ میرے پاس ذیابطیس کا ایک مریض لایا گیا لیکن کچھ عرصے کے بعد اس کی وفات ہو گئی۔‘‘

’’میں نے جب اس کی ماں سے دریافت کیا کہ کیا اس کو ذیابطیس کو معمول پر رکھنے کے لیے انسولین نہیں لگائی جاتی تھی تو اس نے اپنی غُربت کی یہ کہانی بیان کی کہ ان کے خاندان کے پاس تو صرف اتنی رقم ہوتی تھی کہ وہ اس سے صرف رات کے کھانے کا بندوبست کرسکتے تھے اور وہ انسولین کا کہاں سے بندوبست کرتے۔‘‘

ڈاکٹر مشالی نے ڈوئچے ویلے ( ڈی ڈبلیو) سے ایک انٹرویو میں خود کو عام امراض اور بخار کا ماہر قراردیا تھا اور کہا تھا کہ غریب لوگ عام طور پر ان ہی امراض کا شکار ہوتے ہیں اور وہ مہنگے علاج کی سکت نہیں رکھتے ہیں۔