.

تیل تنصیبات پرحملوں کا مقصد عالمی توانائی کی سلامتی کو نقصان پہنچانا ہے: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں‌ وزارت پٹرولیم کے ایک ذمہ دار ذریعے نے بتایا ہےکہ سعودی عرب کے ایک تیل بردار جہاز پر سوموار کی صبح بارود سے بھری کھلونا کشتی سے حملہ کیا گیا ہے۔اس وقت جہاز جدہ کی بندرگاہ پر ایندھن بھرنے کی جگہ پر لنگرانداز تھا۔ سعودی وزارت پٹرولیم نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے نہ صرف سعودی بلکہ عالمی توانائی تنصیبات کو تباہ کرنے کی بزدلانہ کوشش قرار دیا ہے۔

ایجنسی نے بتایا ہے کہ ’’ آگ بجھانے والے عملہ اور حفاظتی یونٹوں نے صورت حال پر قابو پا لیا ہے ،واقعہ میں کوئی شخص زخمی یا ہلاک نہیں ہوا ہے۔ ایندھن اتارنے کی جگہ پر کوئی نقصان ہوا ہے اور نہ تیل کی سپلائی پر کوئی فرق پڑا ہے۔‘‘

ایس پی اے کے مطابق وزارت توانائی کے عہدیدار نے دہشت گردی کے اس حملے کی مذمت کی ہے اور بتایا ہے کہ اس سے پہلے الشقیق میں ایک اور جہاز پر حملہ کیا گیا تھا اور جدہ کے شمال میں پیٹرولیم مصنوعات کے ایک تقسیمی اسٹیشن اور جازان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کے تقسیمی اسٹیشن پر حملہ کیا گیا تھا۔

اس ذریعے کا کہنا تھا کہ ’’ان تخریبی حملوں سے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ہی کوشش نہیں کی جا رہی ہے بلکہ دنیا بھر میں تیل کی سپلائی اور عالمی معیشت کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’دنیا کو آج پہلے سے کہیں زیادہ باہمی تعاون کے ذریعے اس طرح کی دہشت گردی کی کارروائیوں کو ناکام بنانے اور دہشت گرد گروپوں کے خلاف سدِّ جارحیت کی ضرورت ہے۔‘‘

واضح رہے کہ گذشتہ مہینوں کے دوران میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے بحیرہ احمر میں بارود سے بھری دسیوں کشتیوں کو تباہ کیا ہے۔ایران کی حمایت یافتہ یمن کی حوثی ملیشیا نے ان کشتیوں کو حملوں کے لیے بھیجا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں