.

سعودی موسیقی کے گم نام چہرے جن کی بدولت فن کو عروج ملا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں گذشتہ صدی میں موسیقی کا رجحان رفتہ رفتہ شروع ہوا مگر اس رجحان کے شروع ہونے کے بعد مملکت میں یہ فن تیزی کے ساتھ پروان چڑھا۔ مملکت میں موسیقی کے میدان میں کئی گم نام لوگ سامنے آئے۔ جنہوں‌ نے موسیقی کو موجودہ شکل تک پہنچایا۔ ملک میں آج شہرت پانے والے لوک گانے اور نغمے پچھلی صدی کے وسط تک غیرمعروف اور گذشتہ صدی کے وسط کی دھنوں کے قریب تھے۔

اس میدان میں پہلا نام گلوکار طارق عبدالحکیم کا ہے جن کے عربی گیت ' يا ريم وادي ثقيف' نے عرب دنیا میں شہرت اور مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے اور سعودی عرب کی پرانی موسیقی کو ایک نئی جہت سے روش ناس کیا۔

متنوع دھنوں کے ساتھ گائے جانے والے گانوں میں فن کار طلال مداح کا 'وردك يا زارع الورد' بھی کافی مقبول ہوا۔ اس کے کئی فقرے اور الفاظ مختلف دھنوں کے ساتھ گائے گئے۔

تاہم یہ گذشتہ صدی کے وسط کے گانے ہیں جنہوں نے مملکت میں‌ موسیقی کے فن کو آگے بڑھانے کے لیے مہمیز کا کام کیا۔ مملکت میں موسیقی کے میدان میں کئی غیر معروف نام بھی ملتے ہیں مگر ان کی وجہ سے اس فن کو پروان چڑھنے میں مدد ملی۔ صرف گلو کا ہی نہیں بلکہ گیتوں کے شاعر، دھنوں‌ کے تخلیق کار اور موسیقی کے اسرار رموز سے واقف دیگر ماہرین اور فن کار بھی خود گم گنامی کی زندگی گذار گئے مگر انہوں‌ نے سعودی کلچر اور ثقافت کو موسیقی کےلیے قیمتی اثاثہ چھوڑا۔

ان میں بہت سے ایسے فن کار گذرے ہیں جن کے اصل ناموں سے لوگ واقف نہیں بلکہ ان کے عرفی ناموں سے انہیں یاد کیا جاتا ہے۔ بعض نے موسیقی کے میدان میں اپنے اصل نام چھپائے مگر روز مرہ معمولات میں ان کے اصل نام ہی لیے جاتے ہیں۔ بعض کی تصاویر اور القابات سے لوگ واقف ہیں مگر حقیقی ناموں سے کم ہی آگاہی حاصل ہے۔

اصل نام چھپانے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان میں مذہبی اور سماجی اسباب اور کسی حد تک فن سے جڑی وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔

ان گم نام شخصیات میں موسیقی کی دھنیں تیار کرنے والے 'صادق الشاعر' ہیں جن کا اصل نام شہزادہ الشاعر عبدالرحمان بن مساعد تھا۔ قوس کے فرضی نام سے مشہور نے اپنا نام سابق بین الاقوامی کھلاڑی یاسر القحطانی کے نام پر رکھا حالانکہ دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تھا۔

موسیقار طلال نے ایک سے زاید ناموں‌ جن میں طلال مداح، محمد شفیق، طلال اور دیگر ناموں کےساتھ اپنے فن کے جوہر دکھائے۔

بہت سے فن کاروں‌ کی صرف شکل سے لوگ واقف تھے، ان کے فرضی اور اصلی نام تک سامنے نہیں آئے، ان میں شہزادہ احمد بن سلطان بن عبدالعزیزآل سعود جنہیں صرف 'سھم' کے نام سے جانا جاتا تھا۔

ادیب اور فن کار مطلق الزیابی نے سمیر الوادی کے نام کے ساتھ فن کی دنیا میں کام کیا۔