.

حوثیوں کے دہشت گرد حملوں کے خلاف سعودی عرب کے لیے بین الاقوامی حمایت موجود ہے : المعلمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مندوب عبداللہ المعلمی نے باور کرایا ہے کہ حوثی ملیشیا کے دہشت گرد حملے ،،، دہشت گردی پر روک لگانے کے عزم کو مضبوط بنا رہے ہیں۔

پیر کی شام العربیہ نیوز چینل کو دیے گئے بیان میں انہوں نے زور دیا کہ ایران نواز ملیشیا کے حملوں کے خلاف سعودی عرب کی تائید میں بین الاقوامی موقف موجود ہے۔

المعلمی کا مزید کہنا تھا کہ ریاض معاہدے پر عمل درامد میں تیزی آنے سے آئینی حکومت کے ہمنوا یمنی فریق حوثی ملیشیا کا مقابلہ کرنے میں متحدہ ہو جائیں گے۔

المعلمی کے مطابق حوثی ملیشیا کو "دہشت گرد جماعت" کا درجہ دینے کے حوالے سے واشنگٹن کا آئندہ اعلان مثبت اقدام ہو گا۔

اس سے قبل جمعرات کی سب العربیہ نیوز چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں المعلمی کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا وہ تمام کارستانیاں انجام دے رہی ہے جو اس کے دہشت گرد ہونے کی تصدیق کرتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حوثیوں نے بین الاقوامی اور انسانی تنظیموں کے ساتھ بلیک میلنگ کی روش اختیار کر رکھی ہے ، یہ لوگ ضرورت مندوں تک انسانی امداد پہنچنے میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں"۔

المعلمی نے زور دیا کہ سعودی عرب خطے میں ایران کے تباہ کن رویے پر روک لگا رہا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے چند روز قبل ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو آنے والے دنوں میں حوثی ملیشیا کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

فلپائن کے دورے کے دوران امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن مستقل طور پر حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم کا درجہ دینے پر غور کر رہا ہے۔ انہوں نے حوثیوں پر زور دیا کہ وہ ایران سے دور رہیں اور پڑوسی ممالک پر حملوں کا سلسلہ روک دیں۔ پومپیو نے ایران نواز ملیشیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ یمن میں تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں پوری طرح شریک ہونے اور نیک نیتی کے اظہار میں ناکام رہی۔

مقبول خبریں اہم خبریں