.

سعودی عرب : بجٹ کی مجموعی آمدن میں تیل کا حصّہ 53 فی صد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مالیاتی بجٹ میں اہم شاریے سامنے آئے ہیں۔ ان میں تیل کے شعبے میں 412 ارب ریال کی آمدن بھی شامل ہے۔ سال 2020ء میں مجموعی آمدنی میں تیل کی آمدن کا حصہ 53.5% رہا۔ اسی عرصے میں نان آئل ریونیو کا حجم 358 ارب ریال رہا۔ یہ مملکت کی مجموعی آمدنی 770 ارب ریال کے 46.5% کے برابر ہے۔

خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے زیرِ صدارت سعودی کابینہ کے اجلاس میں مالی سال 2021ء کے بجٹ کی منظوری دی گئی۔

نئے مالی سال کے لیے بجٹ میں 9 کھرب، 90 ارب ریال کی رقم مختص کی گئی ہے۔ سال 2021 کے بجٹ کے اعداد و شمار کےمطابق 990ارب ریال کے خرچ کے مقابلے میں 849 ارب ریال کی آمدن ہوئی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ متوقع خسارہ اگلے سال ریکارڈ کیا جائے گا جو 141 ارب ریال تک ہوسکتا ہے۔ خسارے سے جی ڈی پی کا تناسب 4.9 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ نئے مالی سال کے بجٹ میں 2021 میں متوقع کل عوامی قرض 937 ارب ریال ہو گا۔

اجلاس سے خطاب میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا کہ کرونا وبا نے عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے۔ یہ سال عالمی تاریخ کا ایک مشکل سال رہا ہے۔

دوسری طرف شاہ سلمان نے اس بات پر زور دیا کہ ویژن 2030 نے شہریوں اور معیشت پر منفی اثرات کو کم کیا ہے۔ انہوں نے بجٹ منصوبوں پر موثر طریقے سے عمل درمد پر زور دیا۔

شاہ سلمان نے کہا کہ ہم نے وبا کے اثرات کو محدود کرنے اور شہریوں کی ملازمتوں کے تحفظ کے لیے کام کیا ہے۔