.

ٹرمپ نے میرے والد کو قتل کیا اور بائیڈن نے اس کی تائید کی : زینب سلیمانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کی بیٹی زینب سلیمانی کا کہنا ہے کہ منتخب امریکی صدر جو بائیڈن موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مختلف نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بائیڈن کے انتخاب کے نتیجے میں تہران کے حوالے سے امریکی پالیسی میں غالبا کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ قاسم سلیمانی رواں سال 3 جنوری کو بغداد ہوائی اڈے کے باہر امریکی ڈرون طیارے کے حملے میں ہلاک ہو گیا تھا۔

روس کے ٹی وی چینل "رشیا ٹوڈے" (انگریزی) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں زینب نے کہا کہ "ٹرمپ نے میرے والد کے قتل کا حکم دیا جب کہ بائیڈن نے اس کی تائید کی لہذا دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے"۔

زینب نے باور کرایا کہ ٹرمپ کی جانب سے جنرل سلیمانی کو ہلاک کرنے کا فیصلہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اس کے والد نے خطے میں امریکی منصوبوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا ، اس چیز نے واشنگٹن کو چراغ پا کر دیا"۔

یاد رہے کہ زینب سلیمانی 6 جنوری کو تہران میں اپنے والد کی آخری رسومات کے دوران خطاب کے بعد مشہور ہو گئی تھی۔ اس خطاب میں زینب نے متعدد شخصیات کو مخاطب کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس کے والد قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر جوابی کارروائی کریں۔ ان شخصیات میں لبنانی ملیشیا حزب اللہ کا سربراہ حسن نصر اللہ، فلسطینی تنظیم حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ، فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد کے سکریٹری جنرل زیاد نخالہ ، شامی صدر بشار الاسد، عراقی تنظیم بدر کا سربراہ ہادی العامری اور یمن میں حوثی ملیشیا کا سرغنہ عبدالملک الحوثی شامل ہے۔

بعد ازاں جنوری کے اواخر میں زینب سلیمانی کو بیروت کے جنوبی نواحی علاقے الضاحیہ میں حزب اللہ ملیشیا کے گڑھ میں دیکھا گیا۔ زینب نے حزب اللہ کو ایرانی القدس فورس کا ایک ونگ شمار کیا۔

اس کے بعد زینب سلیمانی اپنے باپ کے آبائی شہر کرمان میں نماز جمعہ کے دوران اسلحہ تھام کر نمودار ہوئی۔

زینب سلیمانی نے امریکا پر "ریاستی دہشت گردی" کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے "تاریک دن" کی دھمکی دی۔

رواں سال جون میں ایرانی ذرائع ابلاغ نے زینب سلیمانی اور رضا صفی الدین کی شادی کی خبر نشر کی۔ رضا صفی الدین لبنانی شیعہ مذہبی شخصیت اور حزب اللہ تنظیم کے رہ نما ہاشم صفی الدین کا بیٹا ہے۔

اس موقع پر ایرانی نظام کے ہمنوا بعض حلقوں نے زینب سلیمانی کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس نے شادی کے لیے اپنے باپ کی موت کے بعد سال بھر بھی انتظار نہیں کیا۔ ادھر ایرانی نظام کے مخالفین نے اس شادی کو سیاسی مصلحت قرار دیا تا کہ اس طرح حزب اللہ اور ایران کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

جنوری میں قاسم سلیمانی کے مارے جانے کے بعد سے ایرانی حکام نے پروپیگنڈا مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس کے ذریعے وہ سلیمانی کو قتل و غارت اور دہشت گردی کے الزامات سے بری ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی سلیمانی کے قتل کے انتقام کی دھمکی بھی دیتے رہے ہیں جب کہ اس حوالے سے اب تک کوئی قابل ذکر کارروائی نہیں کی گئی۔

اگرچہ سلیمانی کو قومی ہیرو کی صورت میں پیش کرنے کے لیے ایران پروپیگنڈا جاری ہے تاہم دوسری جانب سوشل میڈیا پر متعدد وڈیو کلپس اور تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں ایرانی مظاہرین کو سلیمانی اور رہبر اعلی علی خامنہ ای کی تصاویر جلاتے اور پھاڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ مظاہرین نے دونوں شخصیات کو مجرم اور دہشت گرد قرار دیا۔