.

بائیڈن کے ساتھ نیا جوہری معاہدہ نہیں ہو گا: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) میں ایران کے مندوب کاظم غریب آبادی نے جمعے کے روز ایجنسی کے ڈائریکٹر کی اُس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ نئی امریکی انتظامیہ کے آنے کے بعد ایرانی جوہری معاہدے کو زندہ کرنے کے لیے ایک نئی سمجھوتے تک پہنچنا ہو گا۔

جمعرات کے روز "روئٹرز" نیوز ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں 'آئی اے ای اے' کے ڈائریکٹر رافائیل گروسی کا کہنا تھا کہ تہران کی جانب سے جوہری معاہدے کی بہت سے خلاف ورزیاں کی گئی ہیں لہذا محض آئندہ ماہ منتخب صدر جو بائیڈن کے کرسی صدارت پر پہنچنے سے پہلی والی صورت حال پر لوٹ جانا ممکن نہیں ہے۔

جو بائیڈن یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران نے جوہری معاہدے کی شرائط پر "دوبارہ سے سختی سے عمل درامد" شروع کر دیا تو امریکا معاہدے میں واپس آ جائے گا۔

کاظم غریب آبادی نے جمعے کے روز اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ "پاسداری پر عمل درامد کی نوعیت کے حوالے سے کسی بھی قسم کا جائزہ لینا ،،، یہ ایجنسی (آئی اے ای اے) کے اختیارات سے مکمل طور پر تجاوز کرنا ہے جس سے اجتناب برتنا چاہیے۔ ایجنسی جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات میں اپنا کردار ادا کر چکی ہے"۔

چھ بڑی قوتوں کے ساتھ طے پائے گئے جوہری معاہدے کے انجینئر ،،، ایرانی صدر حسن روحانی بارہا یہ بات دہرا چکے ہیں کہ اگر امریکا نے پابندیاں اٹھا لیں اور جوہری معاہدے کا مکمل احترام کیا تو تہران اپنے کیے گئے اقدامات سے رجوع کر سکتا ہے۔