.

عرب دنیا میں لوگ فصیح کے بجائے 'بول چال کی زبان' کیوں استعمال کر رہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج 18 دسمبر بروز جمعہ دنیا بھر میں عربی زبان کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ نے رواں سال اپنی ویب سائٹ پر دو بنیادی متعلقہ قضیوں کا تعین کیا ہے۔ پہلا موضوع 'عربی زبان پر غیر ملکی زبانوں کا اثر' اور دووسرا موضوع 'فصیح عربی زبان کے استعمال میں کمی' ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مقامی عرب لہجوں کا استعمال کرنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ نے آج کی دنیا میں لسانیاتی تقاضوں کے بدلتے ہوئے منظر نامے کی روشنی میں "فصیح عربی زبان کی سلامتی کے تحفظ" پر زور دیا ہے۔

دوسری جانب عرب ماہرین لسانیات بالخصوص سینئر ماہرین مقامی گفتگو اور لہجوں کے ساتھ نمٹنے کے لیے کوشاں ہیں جن میں اِعراب کی غلطیوں کے علاوہ لفظی اور لغوی غلطیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ یہ بات حقیقت بن چکی ہے کہ عرب دنیا میں عام لوگ پہلے نمبر پر عام بول چال (غیر فصیح) کا استعمال کرتے ہیں اور اگر کوئی فصیح زبان میں بات کرے تو اس کا نام لے کر بتایا جاتا ہے کہ وہ "فصیح زبان میں بات کرتا ہے" ...!

عربی زبان میں 'اصول و قواعد سے ہٹ کر زبان کے استعمال' کو "لحن" کا نام دیا گیا۔ لحن کے موضوع پر بڑی تعداد میں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان کتابوں کو پڑھ کر عرب دنیا میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد یہ خیال کر بیٹھی کہ 'لحن' ایک ایسا رجحان ہے جو بعد کے آنے والے وقتوں میں ظاہر ہوا ،،، جب کہ درحقیقت عامی (فصیح کی ضد) لہجے بہت پہلے سے عربوں اور فصیح زبان کے ساتھ موجود تھے۔ یہاں تک کہ یہ دیگر اسباب کے ساتھ ایک اہم سبب ہے جو اب عامی لہجے کے پھیل جانے کا ذریعہ بنا۔

ایک ممتاز لسانیاتی محقق ڈاکٹر عبدالعالی ودغیری کے مطابق قدیم عربی کے متعدد لہجے فصیح زبان کے ضمن میں قائم اور استعمال ہوتے رہے ہیں۔ ودغیری نے حالیہ دور کے عرب لہجوں کے فصیح زبان کے ساتھ تعلق پر اپنی تحقیق بھی پیش کی ہے۔

سینئر عرب ماہرین لسانیات کی ایک بڑی تعداد اس بات کی قائل ہے کہ فصیح زبان میں 'لحن' کا داخلہ ،،، غیر عربوں کے عربی میں گفتگو کرنے کے سبب اور دیگر وجوہات کی بنا پر ہوا۔ ودغیری نے فصیح اور عامی زبان کے بیچ وسیع شگاف کے راز کا انکشاف کیا۔ ان کے مطابق یہ مظہر گزری صدیوں کے ساتھ وابستہ ہے جب عرب قبائل کے افراد نے اسلامی دور کی فتوحات کے دوران اور ان کے بعد عرب دنیا کے مختلف علاقوں مثلا مصر، مراکش وغیرہ ہجرت کی۔

ودغیری کا کہنا ہے کہ عرب لہجوں کے حامل افراد جب مفتوحہ ممالک منتقل ہوئے تو وہ اپنے لہجے استعمال کرنے لگے۔ ودغیری نے "بنو هلال" ، "بنو سُليم" اور "بنو معقل" جیسے قبائل کی مثال پیش کی جنہوں نے اپنے اصلی وطن کو چھوڑا اور ان کا ایک طبقہ مصر اور مراکش میں مقیم ہو گیا۔ ہجرت کرنے والے افراد کے ساتھ منتقل ہونے والے لہجے ان علاقوں کے مقامی افراد کے ساتھ استعمال کے بعد "مقامی لہجوں" میں تبدیل ہو گئے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ سینئر ماہرین لسانیات کی اکثریت لحن یا عامی زبان کو فصیح زبان سے انحراف قرار دیتی ہے جب کہ ڈاکٹر عبدالعالی ودغیری کے نزدیک عامی لہجے فصیح زبان کے ہمراہ رہے ہیں۔ یہ عرب مہاجرین کی زبانی منتقل ہوئے جن کو وہ اپنے حقیقی اوطان سے لے گئے۔

ڈاکٹر ودغیری نے واضح کیا کہ مذکورہ لہجوں کو جاری اور باقی رہنے میں جو امر مدد گار رہا وہ یہ کہ انہیں آزادی سے کام کرنے اور پھیلنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ یہ کسی تحریری قانون کی نگرانی میں نہیں آئے لہذا زبانی لہجوں کی شکل میں پھلتے پھولتے چلے گئے۔

ودغیری نے فصیح عربی زبان کو مضبوط بنانے اور مستحکم کرنے کے واسطے عرب دنیا میں سرکاری اداروں بالخصوص علمی ، سماجی اور ذرائع ابلاغ سے متعلق اداروں کی مداخلت کا مطالبہ کیا۔ ان اداروں کو چاہیے کہ وہ عربی زبان کی "اس خطرناک رجحان" سے حفاظت کے لیے لسانیاتی منصوبے وضع کریں اور سخت تدابیر اختیار کریں۔ ان کا مقصد "سماجی اداروں میں فصیح زبان کے مقام کو مضبوط بنانا" ہو۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ نے دنیا بھر میں "عربی کے عالمی دن" کے لیے 18 دسمبر کی دن مختص کیا ہوا ہے۔