.

شام: بشار کی فوج اور داعش کی لڑائی، ایک ماہ سے کم عرصے میں 100 ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں مختلف دیہی علاقوں میں عسکری کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ داعش تنظیم گھات لگا کر اور دھماکوں اور اچانک حملوں کے ذریعے بشار حکومت کی فوج اور اس کی ہمنوا ملیشیاؤں کا خون بہانے کے درپے ہے۔ تنظیم حلب، حماہ اور الرقہ کے تکون میں پوری طرح پھیلی ہوئی ہے جب کہ الرقہ ، حمص اور دیر الزور کے دیہی علاقوں میں نسبتا کم صورت میں سرگرم ہے۔

دوسری جانب بشار کی فوج داعش تنظیم کی سرگرمیوں پر روک لگانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اس دوران بشار کی فوج کو اپنے اور روسی جنگی طیاروں کی فضائی سپورٹ حاصل ہے۔ یہ لڑاکا طیارے روزانہ داعش کے درجنوں ٹھکانوں پر حملے کرتے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق رواں ماہ دسمبر کے آغاز سے اب تک فریقین نے بھاری جانی نقصان اٹھایا ہے۔ اس دوران بشار کی فوج اور اس کی ہمنوا ملیشیاؤں کے 64 عناصر ہلاک ہوئے جب کہ داعش تنظیم کے 39 ارکان مارے گئے۔ فریقین کے زخمیوں کی تعداد درجنوں میں ہے جن میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔ لہذا ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ المرصد کے مطابق اس دوران لبنانی تنظیم حزب اللہ کا ایک رکن بھی ہلاک ہوا۔

اس طرح مارچ 2014 سے اب تک بشار کی فوج اور اس کے ہمنوا شامی اور غیر شامی مسلح عناصر کی مجموعی ہلاکتیں 1084 تک پہنچ گئی ہیں۔ ان میں دو روسیوں کے علاوہ ایران نواز ملیشیاؤں کے 145 غیر شامی مسلح ارکان بھی شامل ہیں۔ یہ تمام افراد فرات کے مغرب میں اور دیر الزور، الرقہ ، حمص اور السویداء کے دیہی علاقوں میں داعش تنظیم کی گھاتوں ، حملوں اور دھماکوں میں مارے گئے۔

اسی طرح المرصد نے داعش تنظیم کی کارروائیوں میں گیس فیلڈز میں کام کرنے والے 4 کارکنان، 11 چرواہوں اور ایک شامی خاتون شہری کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔ المرصد کے مطابق اسی مدت کے دوران شامی فوج اور روسی طیاروں کے حملوں اور بم باری میں داعش تنظیم کے 601 ارکان مارے گئے۔