.

عراقی پارلیمنٹ کے در ودیوار پر قاسم سلیمانی کی تصاویر کی بھرمار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی سیاست پر ایران کا اثرو نفوذ کتنا زیادہ ہے اس کا اندازہ لگانا ہو تو موجودہ عراقی پارلیمنٹ کے درو دیوار اور کی گواہی دینے کے لیے کافی ہیں۔ ایوان کے اندر، باہر، گیلریوں اور دیگر مقامات پر مقتول ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی اور الحشد الشعبی ملیشیا کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کی تصاویر کی بھرمار ہے۔

عراق کے پارلیمانی ذرائع کے مطابق قاسم سلیمانی کی امریکی آپریشن میں ہلاکت کی پہلی برسی پر عراق میں سرکاری سطح پر تقریبات منائی جا رہی ہیں۔

عراقی پارلیمنٹ‌ کے زیراہتمام اس حوالے سے ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں عراق کی سرکردہ سیاسی، مذہبی اور عسکری قیادت کو مدعو کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے صدر مملکت، وزیراعظم، پارلیمنٹ کے اسپیکر، ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کی قیادت، الفتح اتحاد کے سربراہ ھادی العامری اور دیگر رہ نمائوں کو بھی قاسم سلیمانی اور مہدی المہندس کی پہلی برسی کی تقریب میں مدعو کیا گیا ہے۔

دو ماہ قبل جب کربلا شہر میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی کی تصاویر اور پوسٹر آویزاں کی گئیں تو اس پر مقامی شہریوں کی طرف سے سخت غم وغصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ یہ تصاویر 10 محرم اور شہادت امام حسین کے چہلم پر لگائی گئی تھیں۔