.

امارات: 13 ممالک کے لیے ویزوں پر پابندی کی حقیقت واضح ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زائد نے باور کرایا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب بعض ممالک کے لیے ویزوں پر پابندی عارضی ہے۔

اماراتی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ بات پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے امارات کے دورے کے دوران سامنے آئی ہے۔ اس موقع پر شیخ عبداللہ نے کہا کہ امارات "پاکستانی کمیونٹی کا خیر مقدم کرتا ہے جہاں 15 لاکھ سے زیادہ پاکستانی امن و امان کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ امارات ان کا دوسرا وطن ہے"۔

اس سے قبل امارات نے 13 ممالک کے شہریوں کے لیے اپنے ویزوں کا اجرا روک دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس فیصلے کی وجہ نہیں بتائی گئی تھی جس کے سبب بہت سے قیاس آرائیوں نے جنم لیا۔

مذکورہ ممالک کے نام یہ ہیں : شام، لبنان، عراق، تونس، الجزائر، ليبيا، يمن، ايران، ترکی، افغانستان، پاکستان اور کینیا.

دو سال قبل متحدہ عرب امارات نے ایک قانون منظور کیا تھا۔ قانون کے تحت امارات آنے والے تارکین وطن کو ریٹائرمنٹ کے بعد طویل المیعاد ویزے کی پیش کش کی گئی۔ اس مقصد کے لیے درخواست دہندہ کی عمر 55 برس سے کم نہیں ہونا چاہیے۔

اس قانون کے تحت خصوصی مراعات کے ساتھ 5 سال کی مدت کے قیام کی اجازت ہو گی۔ بعد ازاں 55 برس اور اس سے زیادہ کے ریٹائرڈ تارکین وطن کے لیے مقررہ شرائط کے ساتھ اس ویزے کی خود کار طریقے سے تجدید ہو جائے گی۔

شرائط کے مطابق یہ لازم ہے کہ ریٹائرڈ تارک وطن کی امارات میں ریئل سیکٹر کے شعبے میں 20 لاکھ درہم کی سرمایہ کاری ہو یا پھر اس کے پاس موجود بچت کی مجموعی رقم دس لاکھ درہم سے کم نو ہو یا پھر وہ ثابت کرے کہ اس کی ماہانہ آمدنی کم از کم 20 ہزار دہم رہے۔ اس قانون پر عمل درامد 2019ء کے آغاز سے ہو چکا ہے۔