.

حزب اللہ ... خطے میں ایران کی مہنگی ترین سرمایہ کاری !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سال 1979ء میں ایران میں شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور ولایت فقیہ کے تحت ملک میں ایک اسلامی جمہوری نظام فافذ کر دیا گیا۔ انقلاب کے وقت سے ہی اس کے سرخیل خمینی کی شدید خواہش رہی کہ انقلابی تجربے کو بیرون ملک پھیلایا جائے۔ اس مقصد کے لیے "مزاحمت" کے پرچم تلے درجنوں مسلح سیاسی گروپوں کی تشکیل عمل میں آئی۔ ان گروپوں کو ایران کی سرحدوں سے باہر لڑائی کے لا متناہی محاذوں پر بھیج دیا گیا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس ایرانی رہبر اعلی سے براہ راست ہدایات وصول کرتی ہے۔ اس کی ذمے داریوں میں بیرون ملک ایران کے ونگز بنانا اور انہیں خطے کے متعدد ممالک میں تعینات کرنا شامل ہے۔ القدس فورس ایرانی منصوبے پر عمل درامد اور ولایت فقیہ کا تصور پھیلانے کے لیے مالی اور عسکری سپورٹ بھی فراہم کرتی ہے۔

لبنان میں ایران کی چھاپ واضح طور پر حزب اللہ ملیشیا کے ذریعے نمودار ہوئی جو 1982ء میں تشکیل دی گئی تھی۔ ملیشیا کا سکریٹری جنرل اور سربراہ حسن نصر اللہ یہ اعتراف کر چکا ہے کہ ایران نے ملیشیا کو عسکری اور مالی سپورٹ پیش کی ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ایرانی بجٹ میں حزب اللہ کے لیے مختص سالانہ رقم کا اندازہ 70 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی عوام مشکل معاشی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں۔

عراق میں ریاست کے عسکری اداروں کی بربادی کے بعد ایران نے فوری طور پر حرکت میں آ کر عسکری ملیشیائیں بنا دیں تا کہ اپنے ہمنوا افراد کو بغداد میں حکومت میں پہنچانے کی کوششوں کو بارآور بنایا جا سکے۔

البتہ حزب اللہ کا تجربہ خطے میں ایرانی منصوبے کا نمایاں ترین نمونہ مانا جاتا ہے۔ تہران نے اس پر مالی رقوم کو پانی کی طرح بہایا۔ تاہم بعد ازاں پابندیوں اور اقتصادی بحرانات نے ثابت کر دیا کہ یہ ملیشیائیں جنگوں کے سوا کسی کام کی نہیں اور یہ مالی اور اقتصادی بحرانات کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔

بیروت میں امریکی یونیورسٹی میں اکیڈمک اور قانونی محقق بشار الحلبی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ حزب اللہ عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں سے زیادہ مقدم حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے کہ وہ تاسیس کے لحاظ سے سب سے پرانی ہے اور ایران نے کئی دہائیوں سے اس پر سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی جو خطے میں ایرانی حکومت عملی کا "معمار" تھا ،،، رواں سال جنوری میں موت کے بعد حزب اللہ کا سربراہ حسن نصر اللہ ، اس کا نائب نعیم قاسم اور حزب اللہ کا رہ نما شیخ محمد کوثرانی خطے میں ایرانی منصوبے کے نمایاں ترین معمار بن گئے۔

الحلبی کے مطابق حزب اللہ کے پاس ایک بڑا عسکری اسلحہ خانہ ہے اور وہ فنڈنگ کے ذرائع اور اپنے نجی ادارے بھی رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے حزب اللہ عراقی ملیشیاؤں کے برعکس پورے لبنان پر اپنا کنٹرول جمانے میں کامیاب رہی۔ لہذا ایران کے لیے لبنان میں حزب اللہ کا تجربہ عراق میں موجود ملیشیاؤں کے مقابلے میں زیادہ کامیاب ہے۔

دوسری جانب Arab NGO Network for Development کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر زیاد عبدالصمد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "یہ عسکری ونگز خطے میں ایران کے منصوبے کا پھیلاؤ ہیں۔ تاہم ہر ملک میں وہاں کے خصوصی فطری حالات ہیں۔ عراق میں ایرانی نواز ملیشیاؤں کے درمیان انقسام پایا جاتا ہے۔ اسی طرح 2003ء کے بعد عراقی ریاست ڈھیر ہو گئی جب کہ حزب اللہ نے لبنان میں ریاستی اداروں کے اندر اپنی موجودگی ثابت کی ہے"۔

زیاد کے مطابق جس چیز نے لبنان پر حزب اللہ کے کنٹرول کو مضبوط بنایا وہ اس کا حکمراں نظام کے ساتھ حلیف بننا ہے۔ مزید یہ کہ عراق میں ایرانی سرمایہ کاری کو کمزور بنانے والا ایک ممکنہ عامل دو مذہبی مراکز کے درمیان رسہ کشی بھی ہے۔ یہ نجف میں عراقی مرجع اور قُم میں ایرانی مرجع ہے۔ عراق میں بنیادی مذہبی مرجع نجف ہے اور اس کا ویژن ولایت فقیہ کے حوالے سے ایران کے قُم سے مختلف ہے۔ اسی وسیع فقہی اختلاف نے ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کے درمیان بھی اختلافات کی دراڑ ڈال دی۔

زیاد کے نزدیک لبنان میں ایسا کوئی مرجع نہیں ہے جو حزب اللہ کے مخالف شیعہ حلقوں کو یکجا کرے۔ اس کے برعکس عراق میں ایسے مرجع موجود ہیں جنہوں نے ملک میں ایرانی وجود کی مخالف قوتوں کو یکجا کر دیا۔ ان میں علی السیستانی اور عمار الحکیم جیسی شخصیات سرفہرست ہیں جنہوں نے ایران کے خلاف مظاہرے بھی منظم کروا دیے۔

ادھر عراقی امور کے محقق ازہر الربیعی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "ایران 2003ء میں عراق میں داخل ہوا اور 17 برس کے دوران وہاں اپنا نفوذ مضبوط بنانے کے واسطے کام کرتا رہا۔ تاہم یہاں معاملہ لبنان کی طرح نہیں تھا جہاں تہران کی سپورٹ حزب اللہ تک محدود رہی۔ عراق میں اس نے کئی گروپوں کو مالی اور لاجسٹک سپورٹ پیش کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عراق کا رقبہ لبنان سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔ یہ سبب مزید فورسز اور تحریکوں کا متقاضی ہے"۔

الربیعی کے مطابق عراق بھرپور وسائل کا حامل ایک زرخیز ملک ہے جہاں کئی ممالک سبقت لے جانے میں مصروف ہیں۔ تہران نے ایرانی اشیاء اور سامان داخل کر کے عراق کی منڈیوں کو بھر دیا۔ اس کے نتیجے میں عراقی زرعت اور صنعت تباہ ہو گئی۔ عراقی کاشت کاروں کا معاشی قتل ہوا اور قومی صنعت ختم ہو کر رہ گئی۔ اس کی بدولت عراق برآمد کرنے والے ملک کے بجائے درآمد کرنے والا ملک بن گیا۔

الربیعی نے واضح کیا کہ حزب اللہ نے اپنا زیادہ تر نفوذ لبنان کے جنوبی علاقوں میں لاگو کیا۔ دوسری جانب عراقی ملیشیائیں سوائے کردستان کے عمومی صورت میں پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں۔ جس دوران داعش تنظیم نے عراق کے شمالی اور مغربی علاقوں میں قبضہ جمایا اس عرصے میں ایران نواز عراقی ملیشیاؤں نے اپنے وجود اور کنٹرول کو بڑے پیمانے پر پھیلایا۔

اسی سیاق میں سیاسی محقق اور اقتصادی تجزیہ کار سامی نادر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "ان مسلح تنظیموں کے کام کرنے کا نظام صرف جنگ پر قائم ہے، ان کے پاس کوئی اقتصادی منصوبے نہیں۔ ملیشیائیں عام پالیسی اور معیشت کو نہیں بناتی ہیں یہ یقینا جنگ کو پروان چڑھاتی ہیں"۔

سامی کے مطابق ایران پابندیوں کے نتیجے میں عالمی اقتصادی نظام سے کٹ چکا ہے۔ وہ اور اس کی ملیشیائیں ان بحرانات کا مقابلہ کرنے کے لیے منصوبے تخلیق نہیں دے سکتی ہیں"۔

ادھر Arab NGO Network for Development کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر زیاد عبدالصمد کہتے ہیں کہ عراقی ملیشیاؤں کے برعکس حزب اللہ ایک حد تک لبنانی سرکاری اداروں سے باہر ایک متوازی معیشت کو جنم دینے میں کامیاب رہی۔ حزب اللہ نے ایک اقتصادی سرگرمی تخلیق کی جس کا انحصار "غیر قانونی" فنڈںگ کے طریقوں پر ہے۔ ان میں منشیات کی تجارت اور کالے دھن کو سفید بنانا سرفہرست ہے۔ علاوہ ازیں غیر قانونی سرحدی گزر گاہوں کے راستے اسمگلنگ کی کارروائیاں اور لبنان کے باہر موجود تاجروں کے عطیات بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب عراقی ملیشیائیں ابھی تک مکمل طور پر ایرانی فنڈنگ پر انحصار کرتی ہیں۔ اس لیے کہ وہ اقتصادی انفرا اسٹرکچر اور اپنے نجی ادارے بنانے سے قاصر رہیں۔