.

سعودی عرب اور روس کے درمیان 5 ارب ڈالر کے سمجھوتوں پر دستخط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبد العزیز بن سلمان نے کہا ہے کہ انہوں نے روس کے ساتھ 4 جنوری کو تیل کی منڈی کے حوالے سے اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

سعودی وزیر توانائی نے روسی نائب وزیر اعظم الیکذنڈر نوواک کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران امید ظاہر کی ہے کہ مارچ میں سعودی عرب اور روس کمیٹی کے اجلاس میں لوگ شرکت کریں گے۔

روسی نائب وزیر اعظم نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ تعاون کا مقصد تیل کی عالمی منڈی کو مستحکم کرنا ہے۔اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ان کا ملک وبا کے خاتمے کے بعد تیل کی منڈی کے حوالے سے سعودی عرب کے ساتھ منصوبے تیار کیا ہے۔

روسی نائب وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ان کے ملک نے سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ تعاون کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا ہے۔انہوں نے مشترکہ تعاون کی سطح پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے 5 ارب ڈالر مالیت کے متعدد معاہدوں پر دستخط کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو اور ریاض کے مابین باہمی دورے تعاون کی سطح کا ثبوت ہیں۔

سعودی وزیر توانائی نے سعودی بجٹ فورم میں عالمی توانائی کی منڈیوں کے چیلنجوں کے بارے میں کہا کہ اوپیک + معاہدے سے تیل کی عالمی صنعت کو بچایا گیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تیل کی مارکیٹ کا انتظام صرف افہام و تفہیم سے ممکن ہے۔ اسے آزاد منڈی کے تصور سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔

شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا کہ حالیہ معاہدے کے لیے اوپیک کا عزم پچھلے معاہدوں کے مقابلے میں سب سے مضبوط تھا۔