.

یمن میں حکومت کی تشکیل ایک اہم اقدام ہے: عادل الجبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر کا کہنا ہے کہ ریاض معاہدے کے تحت برادر ملک یمن مین نئی حکومت کی تشکیل ایک اہم اقدام ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اقدام سے سیاسی حل تک پہنچنے، بحران ختم کرنے، امن و استحکام کو مضبوط بنانے اور برادر یمنی عوام کی امیدیں پوری ہونے میں مدد ملے گی۔

دوسری جانب سعودی نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے باور کرایا ہے کہ مملکت کے فرماں روا شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب کا یہ موقف جاری رہے گا جو برادر پڑوسی ملک یمن میں امن و استحکام یقینی بنانے کے واسطے مملکت کی پالیسیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ شہزادہ خالد نے ریاض معاہدے پر عمل درامد کو مبارک اور نئی یمنی حکومت کی تشکیل کو خوش آئندہ قرار دیا۔

سعودی نائب وزیر دفاع کے مطابق یمن میں ایک جامع سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے سعودی ولی عہد کی کوششیں بارآور ثابت ہو رہی ہیں۔ اس حوالے سے یمنی صدر ، یمنی حکومت، عبوری کونسل وار عسکری قیادت کے مثبت رد عمل نے سیاسی، سفارتی اور عسکری سطح پر کامیابی میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ اس سلسلے میں بطور وطن یمن کے مفاد کو ہر اعتبار سے مقدم رکھا گیا۔ اس پورے عمل میں سعودی عرب ، امارات اور عرب اتحاد کے ممالک نے مکمل تعاون کیا اور ثابت کیا کہ وہ یمن میں امن و استحکام یقینی بنانے کے حوالے سے حقیقی اور برادرانہ خواہش رکھتے ہیں۔

شہزادہ خالد بن سلمان نے مزید کہا کہ آج ہم ہر یمنی کی طرح یمن کی حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ ملک کو قوم کی قیادت کرتے ہوئے انہیں امن کے سائے میں پہنچائے۔ یہ مشقت سے بھرپور دشوار گزار اور طویل راستہ ہے مگر مخلص انسانوں کے عزائم اختلافات کو جڑ سے اکھاڑ دیتے ہیں اور امیدوں کو پورا کرتے ہیں۔