.

فخری زادہ قتل، ایران میں دسیوں افراد کی گرفتاری اور تفتیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں گذشتہ ماہ تہران میں سرکردہ جوہری سائنسدان کے قتل کے بعد پاسداران انقلاب نے اس واقعے میں‌ ملوث ہونے شبے میں کریک‌ ڈاون کے دوران دسیوں افراد کو گرفتار کیا گیا اور ان سے پوچھ تاچھ کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی پولیس اور پاسداران انقلاب نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ملک میں مختلف مقامات پر چھاپوں کے دوران درجنوں افراد کو حراست میں لیا ہے۔ان سے جوہری سائنسدان فخری زادہ کے قتل ہونے کا شبہ عاید کیا گیا تاہم حراست میں لیے گئے کچھ لوگوں کو چند گھنٹوں کی تفتیش کے بعد رہا کردیا گیا۔ کچھ کو چند روز حراست میں رکھا گیا جب کہ بعض کے بارے میں ابھی تک معلومات نہیں مل سکیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق پاسداران انقلاب نے گذشتہ ہفتوں کے دوران تہران گورنری میں درجنوں شہریوں کو مختلف مراکز میں طلب کیا گیا اور ان سے تفتیش کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ان لوگوں کی تعداد کا اندازہ لگایا گیا ہے جن کو طلب کیا گیا ہے اور ان میں سے کچھ کو گذشتہ ہفتوں کے دوران انقلابی گارڈز کے حراستی مراکز میں طلب کیا گیا ہے جن میں "1-A" حراستی مرکز ، "2-A" حراستی مرکز جیسے مراکز بھی شامل ہیں۔

ایران کی ہرانا ایجنسی کے مطابق گرفتار کیے گئے کچھ افراد کو کئی گھنٹوں کی تفتیش یا کئی دن کی نظربندی کے بعد رہا کیا گیا ہے لیکن دوسروں کے حالات کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

اور ایران انٹرنیشنل ویب سائٹ نے ایجنسی کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان میں سے بیشتر افراد ملک کے مختلف حصوں میں نگرانی کے کیمروں کی فروخت ، تنصیب اوران سے متعلق سروسز فراہم کر رہے تھے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان میں سے کچھ تہران میں الیکٹرانک اور سیکیورٹی ڈیوائسز فراہم کرنے والے افراد ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تفتیش کے دوران ان شہریوں سے سوالات پوچھے گئے کہ وہ کس طرح نگرانی کیمرے خریدتے اور فراہم کرتے ہیں۔ تہران کے مختلف علاقوں میں کیمروں کی حفاظت کی تصدیق کے لیے ان کے دوروں کی آخری تاریخوں کے بارے میں سوالات پوچھے گئے۔

پچھلے ہفتے کے دوران شہر سے یہ خبریں شائع ہوئی تھیں کہ ایران کے صوبہ کردستان میں بے پیمانے پر فوج اور سیکیورٹی فورسز نے تلاشی مہم شروع کی ہے۔ اس دوران متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا جبکہ پاسداران انقلاب چھ افراد کی تصاویر بھی اٹھائے ان کی تلاش میں دیکھے گئے ہیں۔ ان چھ ملزمان پر جوہری سائنسدان فخری زادہ کے قتل کا شبہ کیا گیا ہے۔