.

انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث چینیوں کو ویزہ نہیں دیں گے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ نے کل سوموار پیر کے روز اعلان کیا کہ چین میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا مرتکب چینی باشندوں کو امریکا میں داخل ہونے کے لیے ویزہ نہیں دیا جائے گا۔

ایک بیان میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ نئے اقدامات میں چینی کمیونسٹ پارٹی کے تمام عہدیدار شامل ہوں گے۔ وہ تمام چینی جو جہاں بھی موجود ہوں ان کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا جائے گا چین میں مذہبی آزادیوں‌ پر قدغنیں لگانے، اقلیتوں سے نسلی امتیاز برتنے، سیاسی مخالفین، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کو ہراساں کرنے، صحافیوں کو ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے روکنے اور پرامن مظاہروں کو کچلنے والوں کو امریکا کا ویزہ نہیں دیا جائےگا۔

انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث چینیوں کےخلاف پابندیوں میں ان کے خاندان بھی شامل ہیں‌۔

واشنگٹن پہلے ہی چینی عہدیداروں یا طلباء کے خلاف اسی طرح کا اقدام اٹھا چکا ہے جو امریکا کے پہلے اسٹریٹجک مخالف بیجنگ کے خلاف اپنی مہم کا حصہ ہے۔

اس تناظر میں امریکی محکمہ خارجہ نے جاسوسی کے شبہ میں ایک ہزار سے زیادہ چینی طلباء اور محققین کے ویزے منسوخ کر دیئے ہیں۔ ایغور مسلمانوں کے حق کی خلاف ورزی یا ہانگ کانگ میں جبر کی کارروائیوں میں ملوث چینی عہدیداروں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ نے چینی کمیونسٹ پارٹی کے ارکان کے داخلے پر بھی پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔

پومپیو نے پیر کو مزید کہا کہ یہ اقدام امریکی حکومت کے چینی عوام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے لیے چینی کمیونسٹ پارٹی کو ذمہ دار ٹھہرانے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین میں مطلق العنان لیڈروں نے آزادی اظہار ، مذہب ، عقیدہ اور پرامن احتجاج پرسخت پابندیاں عاید کر رکھی ہیں۔ امریکا نے واضح کردیا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے یہ لیڈر ہمارے ملک میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں