.

سعودی وزیر صحت کو کرونا ویکسین لگانے والی خاتون ڈاکٹر کے مسرت سے لبریز جذبات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ جمعرات کو سعودی عرب میں کرونا ویکسین لگانے کا آغاز ہوا تو پوری سعودی قوم اور مملکت میں‌ مقیم تارکین وطن میں‌ خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ مگر سعودی عرب کی ایک خاتون ڈاکٹر کی خوشی کی دیدنی تھی جب اسے پتا چلا اسے مملکت کے وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ کو کرونا انجیکشن لگانا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر حسنا ابوبکر نے بتایا کہ گذشتہ جمعرات کو جب اسے کہا گیا کہ اسے وزیر صحت کو کرونا ویکیسن دینا ہے تو وہ بے حد خوش تھیں۔ اس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر توفیق الربیعہ کو کرونا ویکسین دینے کا عمل ذرائع ابلاغ پر بھی دکھایا گیا۔ یہ ایک تاریکی لمحہ تھا جسے وہ اپنے کیریئر کے اہم ترہم لمحات میں شمار کرتی ہیں اور اسے کبھی فراموش نہیں کریں گی۔

انہوں نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں کہاکہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ مجھے وزیر صحت کو کرونا ویکسین لگانی ہے۔ ویکسین انجیکشن کے عمل سے ایک گھنٹہ قبل مجھے یہ اطلاع دی گئی۔ میں اس وقت بہت زیادہ خود اعتمادی اور خوشی محسوس کر رہی تھیں۔

الریاض میں قائم یمامہ یونی ورسٹی کے میڈیکل کیئر کالج سے طب میں سند فراغت حاصل کرنے والی ڈاکٹر حسنا نے کہا کہ جب وزیر صحت اسپتال کے کمرے میں ویکسین لگوانے آئے تو مجھے کچھ پریشانی ہوئی مگر میں‌نے خود پر قابو پایا اور یہ سوچا کہ میں ایک ڈاکٹر ہوں اور یہ ایک مریض ہیں۔ ایک ڈاکٹر کے طور پر مجھے اپنا فرض ادا کرنا ہے۔

اس نے بتایا کہ میں‌ نے ڈاکٹر توفیق الربیعہ کے خون کے نمونے لیے، ان کی خون کی رنگ تلاش اور پیشہ وارانہ طریقے سے انجیکشن لگایا۔ اس موقعے پر ڈاکٹر الربیعہ کی مسکراہٹ نے میرے کام میں مدد کی۔ انہوں‌ نے میرا اور میری پوری ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ میں وزیر موصوف سے اپنی لیے تعریفی کلمات سنے تو مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میرے پاس وفور جذبات میں جواب دینے کے لیے الفاظ نہیں تھے۔ انہوں نے میرے ساتھ یادگاری فوٹو بنانے پر بھی رضا مندی ظاہر کی۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر حسنا نے بتایا کہ میں کلینیکل لیبارٹریوں میں انجکشن لگانے ، خون کے نمونے لینے کے عمل یا خون کا عطیہ کرنے والے آپریشن انجام دینے کی ماہر ہوں۔اس میں رگ سے خون نکالنا، رگ کا تعین کرنا جیسے کسی ہنگامی نوعیت کے کیسز شامل ہوتے ہیں جو کہ ایک عام نرس بھی بہ خوبی جانتی ہے۔

میں سب سے پہلے خدا کا شکر ادا کرتی ہوں۔ اس کے بعد میں سعودی عوام کی اس مدد اور دیکھ بھال کے لیے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کرتی ہوں، جن کی کاوشوں اور عوام نوازی کے نتیجے میں آج سعودی عرب میں کرونا کی وبا پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ وبا کی مستقل بنیادوں پر روک تھام کے لیے ویکسین لگانے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں