.

غربِ اردن میں آبادکارعورت کی ہلاکت کے بعد کشیدگی، صہیونی فوج کی مزید کمک کی آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک یہودی آبادکار کی ہلاکت کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے اور اسرائیلی فوج نے علاقے میں مزید کمک بھیج دی ہے۔

فلسطینی علاقے کے شمال میں واقع یہودی بستی تل منیاش کے نزدیک سوموار کو 52 سالہ یہودی آبادکار عورت ایستھر ہورگن کی لاش ملی تھی۔وہ چھے بچوں کی ماں تھی اور فرانس اور اسرائیل کی دُہری شہریت کی حامل تھی۔

اس کے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ وہ چہل قدمی کے لیے گھر سے باہر سے گئی تھی لیکن زندہ سلامت نہیں لوٹی تھی۔اسرائیلی حکام اس کی موت کی تحقیقات کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں ایسے اشارے ملے ہیں کہ ہورگن کو تشدد سے موت کی نیند سلا دیا گیا ہے لیکن اسرائیلی حکام نے اس واقعے میں فلسطینیوں کے ملوّث ہونے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے سوموار کو اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ سکیورٹی اہلکار قاتل کو جلد گرفتار کر لیں گے اور اس کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

اسرائیلی حکام نے اس واقعے کی تحقیقات سے متعلق پولیس کو کسی قسم کا بیان جاری کرنے سے روک دیا ہے۔دریں اثناء ہورگن کو آج تل مناش میں ایک مقامی قبرستان میں دفن کردیا گیا ہے۔

ہورگن کی جائے پیدائش ملک فرانس نے اس کے قتل کی مذمت کی ہے۔فرانس کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس سنگین جُرم کے ذمے داروں کو گرفتار کرکےانصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے خطے میں کمیونٹیوں اور شاہراہوں کے دفاع کا حکم دے دیا ہے اور مزید کمک بھیج دی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کے سواعالمی برادری اور ادارے غربِ اردن میں اسرائیل کی قائم کردہ تمام یہودی بستیوں کو غیرقانونی قرار دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود حالیہ برسوں کے دوران میں غربِ اردن میں یہودی آباد کاروں کی بستیوں میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔

اس وقت غربِ اردن میں قریباً ساڑھے چارلاکھ یہودیوں کو لا بسایا گیا ہے جبکہ وہاں 28 لاکھ فلسطینی رہ رہے ہیں۔اس علاقے میں فلسطینیوں اور یہودی آبادکاروں کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے اور یہ اکثر تشدد پر منتج ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں