.

لیبیا سے انخلا کی سفارشات پیش کرنے والے ترک افسران شامی اجرتی جنگجوؤں کے ہاتھوں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے خصوصی ذرائع نے بتایا ہے کہ ترکی کے زیر انتظام مسلح ملیشیا نے اُن سیکورٹی عناصر کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے جنہوں نے درالحکومت طرابلس میں شہریوں کو پکڑنے کی ہدایت پر عمل درامد سے انکار کر دیا تھا۔

ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مذکورہ ملیشیا دارالحکومت میں شہریوں کے خلاف بھی تشدد کی منظم کارروائیاں انجام دے رہی ہے۔ علاوہ ازیں ملیشیا کے عناصر نے لیبیائی شہریوں کی مالی رقوم ہتھیا لی ہیں۔

اسی طرح ترک انٹیلی جنس نے اپنے اُن افسران کو بھی گرفتار کیا ہے جنہوں نے خفیہ تحریروں میں لیبیا سے نکل جانے کی ضروورت پر زور دیا۔ انقرہ حکومت نے اُن ترک فوجیوں کو بھی حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے جنہوں نے لیبیا میں فوجی آپریشن میں شریک ہونے سے انکار کر دیا۔

واضح رہے کہ ترکی نے گذشتہ چند ماہ کے دوران لیبیا کے معاملے میں اپنی مداخلت کافی حد تک بڑھا دی۔ انقرہ کی جانب سے لیبیا میں وفاق حکومت کو ہتھیاروں اور ساز و سامان کے ذریعے قومی فوج کے مقابل سپورٹ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ترکی نے ہزاروں شامی اجرتی جنگجوؤں کو لیبیا لا کر انہیں دارالحکومت طرابلس کے معرکوں میں جھونک ڈالا۔

ترکی کی پارلیمنٹ نے منگل کے روز ایک یادداشت منظور کی ہے جس کے تحت لیبیا میں عسکری اہل کاروں کی تعیناتی میں اٹھارہ ماہ کی توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس سے قبل ترکی کی پارلیمنٹ نے رواں سال جنوری میں پہلی یادداشت پر رائے شماری کی تھی۔ یہ یادداشت طرابلس میں وفاق حکومت کے سربراہ فائز السراج کی جانب سے لیبیا میں ترکی فوج کی مداخلت کی دعوت دیے جانے کے جواب میں پیش کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ نومبر 2019ء میں فائز السراج اور ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کے درمیان عسکری اور سیکورٹی تعاون کے حوالے سے ایک معاہدہ طے پایا تھا۔