.

ایرانی جنرل اسماعیل قاآنی کا دوسرا خفیہ دورہ عراق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ذرائع کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی سمندر پار آپریشنل کارروائیوں کی ذمہ دار قدس فورس کے سربراہ جنرل اسماعیل قاآنی ایک بار پھر خفیہ دورے پر عراق پہنچے ہیں۔ چند ماہ کے دوران جنرل قا آنی کا عراق کا یہ دوسرا دورہ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنرل اسماعیل قا آنی ایک ایسے وقت میں عراق کے دورے پر بغداد پہنچے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ عراق میں ایران نواز ملیشیاوں‌ کی طرف سے مسلسل حملوں کے بعد امریکا نے اپنا سفارتی عملہ واپس بلانے یا کم کرنے پر غور شروع کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے بغداد میں امریکی سفارت خانے پر راکٹ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے جنرل قاآنی عراق پہنچے ہیں۔

دوسری طرف میڈیا کے ذریعے یہ رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ امریکی حکومت نے سفارت خانے پر راکٹ حملوں کے جواب میں مختلف آپشنز پرغور شروع کیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عراق میں سفارت خانے پر حملے کے بعد بغداد میں موجود امریکی فوجیوں ، شریوں اور سفارتی عملے کی زندگی کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران عراق میں امریکی مفادات پر ہونے والے حملوں کے پیچھے ایرانی ملیشیا کا ہاتھ ہے۔

ایک ماہ سے بھی کم وقت میں ایرانی جنرل کے دورہ عراق کو امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کےساتھ جوڑا جا رہا ہے۔ مبصرین خدشہ ظاہرکررہےہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی حکومت کے آخری دنوں میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف یہ خدشہ بھی ہے کہ جوبائیڈن کی آمد سے قبل ایران عراق میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کارروائی بھی کر سکتا ہے۔

اگرچہ ایرانی وزیر خارجہ نے عراق میں امریکی سفارت خانے پر راکٹ حملوں کے پیچھے ایران کے ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔