.

سعودی عرب : مشہور ڈرامہ سیریل "طاش ماطاش" کے حوالے سے ڈاکٹریٹ کا مقالہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی دارالحکومت ریاض میں شاہ سعود یونیورسٹی کی کلّیہِ ادب میں ایک محقق نے ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ پیش کیا ہے جس میں مشہور ڈرامہ سیریل "طاش ماطاش" کے سبب سعودی معاشرے میں پیدا ہونے والی سماجی تبدیلیوں کو زیر بحث لایا گیا ہے۔

پی ایچ ڈی کے لیے یہ مقالہ عبدالعزیز الحمدان نے پیش کیا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ "ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کے مرحلے میں تعلیم کے دوران سینئر اساتذہ ہمیں اس بات کی تاکید کرتے تھے کہ ہم غیر اہم اور بارہا دہرائے جانے والے موضوعات سے اجتناب کریں اور امتیازی اور نئے موضوعات کا رخ کریں۔ لہذا میں نے اپنے مقالے کا موضوع سعودی ٹیلی وژن کے بعض پروگراموں کے حوالے سے منتخب کیا۔ اس سلسلے میں میری نظر سیریل طاش ماطاش میں پیش کیے جانے والے حالات پر جا کر ٹھہری جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کل جو چیز ناقابل قبول تھی آج وہ قبول کر لی گئی۔ اس تحقیقی کے دوران میں نے اللہ کی مدد سے اپنی پوری کوششیں صرف کیں اور میرے نگراں اساتذہ نے بھی میری بھرپور رہ نمائی اور مدد کی۔ یہاں تک کہ میں اس تحقیقی مطالعے اور اس کے اجزاء کو زیر بحث لانے میں کامیاب ہوا"۔

الحمدان کے مطابق ان کا منتخب موضوع قابل تحقیق ہے جس پر اخلاقی اور قانونی طور پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ میری تحقیق کا مقصد اُن سماجی تبدیلیوں کے مظاہر کو جاننا تھا جو 1993ء سے 2011 کے درمیان سعودی معاشرے میں نمودار ہوئے۔ اس واسطے اُن نمایاں ترین سماجی معاملات کا تجزیہ کیا گیا جن کو سعودی ڈرامہ سیریلز کے ذریعے درست کرنے کی کوشش کی گئی۔

اس مقالے کے زبانی امتحان میں نگراں کے طور پر شریک شاہ سعود یونیورسٹی کے سماجیات کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام الوائل کے مطابق سماجی تبدیلیوں کا موضوع اہمیت رکھتا ہے۔ اس لیے بھی کہ سعودی معاشرے میں گذشتہ 40 برسوں کے دوران بہت سی اور قوی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ گذشتہ 5 برسوں کے دوران یہ تبدیلیاں بڑی تیزی کے ساتھ اور واضح صورت میں سامنے آئی ہیں۔ تبدیلیوں کی اپنی بنیادیں ہوتی ہیں اور لوگ اس تبدیلی کا پتہ چلاتے ہیں۔

محقق عبدالعزیز الحمدان نے اپنے موضوع کی مناسبت سے ڈرامہ سیریل طاش ماطاش کو پہلی سے آخری قسط تک بغور دیکھا۔ اس کے بعد انہوں نے تقریبا 48 اقساط سے یک دم نمونے لے کر ان کا تحقیقی تجزیہ کیا۔ اس دوران سماجی، تربیتی، تعلیمی، اقتصادی، سیاسی اور ماحولیاتی امور پر توجہ مرکوز رکھی گئی۔