.

شام اور عراق میں ملیشیاؤں کی فنڈنگ کے لیے ایرانی پاسداران انقلاب کا نیا بھیس ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکمراں نظام اور اس کے عسکری ونگ کو غیر ملکی کرنسیوں کے حصول میں بڑی دشواری کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے پابندیوں کے ذریعے تہران پر ڈالا جانے والا انتہائی دباؤ ہے۔ اس حوالے س لندن میں ایران انٹرنیشنل ٹیلی وژن نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب بلیک مارکیٹ کے نرخوں پر ڈالر اور یورو خریدنے کے لیے چکمہ دینے کا ایک خصوصی نظام استعمال کر رہی ہے۔ اس کا مقصد عراق اور شام میں اپنی ملیشیاؤں کو مالی رقوم کی فراہمی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی حکومت اپنی کرنسی کی قیمت کو مزید گرنے سے روکنے کے لیے روزانہ بلیک مارکیٹ میں کروڑوں ڈالر ڈال رہی ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام پر لازم ہے کہ وہ یہ ڈالر سامان درآمد کرنے والوں کو فراہم کریں اور مارکیٹ میں گردش میں لائیں ،،، تاہم درحقیقت یہ ہو رہا ہے کہ القدس فورسز مرکزی بینک کی مدد سے اپنے زیر انتظام ایکسچینجز کے ذریعے ان ڈالروں کا بڑا حصہ کم قیمت پر خریدتا ہے اور آخرکار یہ مالی رقوم خطے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام غیر قانونی مسلح جماعتوں کے پاس پہنچ جاتی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حکومت یہ مالی رقوم "نيما" نامی ایک نظام کے تحت حاصل کرتی ہے۔ یہ انٹرنیٹ کے ذریعے کرنسی کا ایک نظام ہے جو ایران کے مرکزی بینک نے اپریل 2018ء میں شروع کیا تھا۔ یہ نظام ایرانی برآمد کنندگان کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ نقدی کو زیادہ اونچے نرخوں پر فروخت کر سکیں۔ یہ سرکاری نرخ (ایک ڈالر مساوی 42 ہزار ریال) اور غیر سرکاری نرخ (ایک ڈالر مساوی 2.6 لاکھ ریال) کے درمیان ہوتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی بینکنگ نظام کے ایک سینئر ڈائریکٹر نے ایران انٹرنیشنل ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایرانی وزارت دفاع "نیما" کے ذریعے کرنسی حاصل کرنے کے لیے لائسنس یافتہ منی ایکسچینجز کے نام اور دستاویزات استعمال کرتی ہے اور پھر فرضی معاہدے مرکزی بینک کو پیش کر دیتی ہے۔

مذکورہ ذریعے کے مطابق مرکزی بینک ان معاہدوں کی حقیقت جاننے کے باوجود ایرانی عوام کے لیے مختص کروڑوں ڈالروں کی رقم ایرانی وزارت دفاع اور پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے حوالے کر رہا ہے ،،، جب کہ یہ رقم تاجروں کو پیش کی جانی چاہیے اور اسے تجارت کے شعبے میں استعمال ہونا چاہیے۔

اسی سلسلے میں ThetaRay کمپنی میں سائبر سیکورٹی کے چیف ایگزیکٹو مارک گیزٹ نے واضح کیا کہ ایرانی مرکزی بینک برآمد کنندگان سے رابطہ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اسے یورو اور ڈالروں کی ضرورت ہے تا کہ یہ کرنسی ایران کے لیے ضروری اشیاء اور سامان درآمد کرنے والے تاجروں کو پیش کی جا سکے۔ تاہم رقم حاصل کرنے کے بعد اسے ایرانی پاسداران انقلاب کو پیش کر دیا جاتا ہے اور وہ اسے ہتھیاروں پر خرچ کرتی ہے۔ مزید یہ کہ ایرانی پاسداران انقلاب اس مقصد کے لیے فرضی ناموں کے ساتھ بینک کھاتوں کی ایک بڑی تعداد چلا رہی ہے۔

ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ القدس فورس کی جانب سے اس بڑے پیمانے پر "نیما" کے نظام کا استعمال کرنسی کے تبادلے کے نرخ کو بھاری نقصان پہنچائے گا اور ملک کے لیے ضروری اشیاء کی درآمد کے واسطے مطلوبہ کرنسی کی قلت کا سبب بنے گا۔

واضح رہے کہ 2018ء میں امریکی پابندیاں عائد ہونے کے سبب تیل کی فروخت کی آمدن میں شدید کمی آنے کے ساتھ ایران کو بحرانی اقتصادی صورت حال کا سامنا ہے۔