.

ایران میں‌ پاسداران انقلاب سے لڑنے کے الزام میں بلوچ کارکن کو پھانسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی ایک انقلاب عدالت کے حکم پر ایک بلوچ سماجی کارکن کو دی گئی سزائے موت پر عمل درآمد کرتے ہوئے اسے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں ‌نے بلوچ کارکن کی پھانسی کو ایرانی رجیم کی ظالمانہ سزائوں کا تسلسل قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کے مطابق ایرانی حکام نے ہفتے کی صبح بلوچ کارکن عبدالحمید میربلوچ زئی کو دی گئی سزائے موت پر عمل درآمد کرتے ہوئے اسے موت کی نید سلا دیا۔ اس پر پانچ سال قبل پاسداران انقلاب کے ساتھ جھڑپ میں ایرانی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

جمعہ کے روز میر بلوچ زئی ایرانی وکیل مصطفی نیلی نے اپنے موکل کی ممکنہ پھانسی کے بارے میں اپنی تشویش کا اعلان کرتے ہوئے فیصلے کی معطلی اور مقدمے کی دوبارہ سماعت کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا تھا مگر اس کے مطالبے کو رد کر دیا گیا۔

عبدالحمید بلوچ پر کئی دیگر لوگوں کے ساتھ قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لینےکے الزام میں مقدمہ چلایا گیا تھا اور ابتدائی طور پر اسے 15 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن بعد میں عدالت نے اس سزا کو موت کی سزا میں تبدیل کر دیا تھا۔

مدعا علیہان کا کہنا تھا کہ انہیں ایرانی انٹلی جنس حراستی مراکز میں تحقیقات کے دوران جبری اعتراف جرم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی میڈیا بشمول ایرانی عدلیہ کی میزان ایجنسی نے کہا کہ عبد الحمید میر بلوچ جو اویس کے نام سے جانا جاتا ہے کو 2015 کے آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے خلاف قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد اسے ہفتے کی صبح صوبہ سیستان بلوچستان کے شہر زاہدان میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

بلوچستان افغانستان اور پاکستان کی سرحد سے متصل ایران کا ایک غریب اور انتہائی محروم صوبہ طویل عرصے سے سیکیورٹی فورسز اور بلوچ مسلح گروہوں کے مابین اکثر جھڑپوں کا مرکزرہا ہے۔ بلوچ عسکریت پسند گروپوں‌کا دعویٰ‌ہے کہ وہ بلوچ قوم کے حقوق کے دفاع کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے ایران کی عدالت نے زاہدان جیل میں دو بلوچ قیدیوں کو پھانسی دی تھی۔ ایرانی جیلوں‌میں‌پابند سلاسل کئی بلوچ سیاسی رہ نما اور سماجی کارکن اب سزائے موت پرعمل درآمد کے منتظر ہیں۔