.

ایران کے لیے خساروں کا سال، اہم عسکری اور جوہری شخصیات سے محروم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس میں کوئی شک نہیں کہ 2020ء کو ایران کے لیے بدترین سال قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس دوران اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے دباؤ میں اضافے کی پالیسی کا سامنا رہا۔ اس دباؤ کی مہم میں امریکی پابندیاں اور اقوام متحدہ میں سینئر ایرانی سفارت کاروں کے سفر پر قیود شامل ہیں۔ علاوہ ازیں ایران کے عسکری خزانے اور پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر جنرل سلیمانی کو ہلاک کر دیا گیا۔ بعد ازاں ایران کے نمایاں ترین جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو بھی موت کی نیند سلا دیا گیا۔

مئی 2018ء میں امریکا نے ایرانی جوہری معاہدے سے یک طرفہ علاحدگی اختیار کرلی۔ اس کے بعد ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی اختیار کی گئی۔ یہ پالیسی تہران کو مذاکرات کی میز پر واپسی کے لیے مجبور کر سکتی ہے۔

اس سلسلے میں امریکی جریدے فارن پالیسی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماہرین کی اکثریت اس بات سے اتفاق کرتی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے انتہائی دباؤ کی مہم مؤثر رہی۔ اس نے ایرانی معیشت پر کاری ضرب لگائی اور تہران پر بڑا دباؤ عائد کیا۔

امریکی پابندیوں اور کرونا کی وبا کے مشترکہ اثرات نے ایرانی معیشت کو نہایت کمزور پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔

ایک ایرانی تجزیہ کار کے مطابق ایران کے بگڑے ہوئے اقتصادی حالات کے سبب تہران کے مغرب کے ساتھ بات چیت کی طرف لوٹنے کے امکانات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

تاہم مبصرین کے نزدیک اس حوالے سے ویژن ایران میں صدارتی انتخابات کے بعد ہی واضح ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ انتخابات کے نتیجے میں کوئی سخت گیر صدر اقتدار سنبھالے اور مذاکرات کا دروازہ حتمی طور پر بند ہو جائے اور اس کے سبب واشنگٹن مزید سخت موقف اپنانے پر مجبور ہو جائے۔