.

بغداد: گرین زون میں راکٹ حملوں کے ذمے دار کی تصویر 'العربیہ' کو حاصل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں العربیہ کو ذرائع سے "عصائب اہل الحق" گروپ کے کمانڈر حسام الازیرجاوی کی تصویر موصول ہوئی ہے۔ حسام پر الزام ہے کہ وہ گذشتہ اتوار کے روز دارالحکومت بغداد کے گرین زون میں امریکی سفارت خانے کے قریب ہونے والے راکٹ حملے میں ملوث ہے۔

حسام کی گرفتاری نے اس ایران نواز ملیشیا کے عناصر کو چوکنا کر دیا ہے اور وہ ملیشیا کے سربراہ قیس الخزعلی کی جانب سے مطالبے پر مقابلے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔

گذشتہ شب سامنے آنے والی ایک وڈیو میں ملیشیا کے عناصر مقابلے کے لیے تیاری کا عندیہ دیتے نظر آ رہے ہیں۔ یہ عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کے لیے ایک بالواسطہ پیغام ہے جو اپنے طور پر زور دے چکے ہیں کہ وہ ان ملیشیاؤں سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

الکاظمی نے باور کرایا ہے کہ وہ عراق کے امن و امان کے حوالے سے کوئی رعائت نہیں برتیں گے کیوں کہ یہ حکومت پر عائد امانت ہے۔ انہوں نے ٹویٹر پر کہا کہ "ہم کسی بھی قسم کی مہم جوئی کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ ہم نے ریاست کے سیکورٹی اداروں اور فوج پر عوام کا اعتماد بحال کرنے پر خاموشی اور سکون کے ساتھ کام کیا۔ یہ اعتماد قانون سے خارج عناصر کی کارستانیوں کے سبب متزلزل ہو گیا تھا۔ ہم ملک کو بے فائدہ مہم جوئی میں نہیں ڈالنا چاہتے تاہم اگر ضرورت پڑی تو فیصلہ کن مقابلے کے لیے تیار ہیں"۔

گذشتہ روز عصائب اہل الحق کی جانب سے حسام الازیرجاوی کی رہائی کے مطالبے اور دھمکیوں کے بعد بغداد میں سیکورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کی برسی نزدیک آنے کے موقع پر امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ میں اضافہ جاری ہے۔ ادھر حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل ممکنہ طور پر ایران کو نشانہ بنانے کے حوالے سے کئی آپشنز کا جائزہ لیا۔

عراقی وزارت داخلہ نے گذشتہ روز ایک اعلان میں بتایا تھا کہ اس نے بغداد میں حساس مقامات اور بین الاقوامی مشنوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔