.

خامنہ ای کے مندوب کی شام میں ایرانی ملیشیائوں کی تکریم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں ایرانی لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خصوصی ایلچی حمید صفار الھرندی نے شام میں موجود ایرانی نواز ملیشیائوں کی قیادت کے اعزاز میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا جس میں ملیشیائوں کے کمانڈروں کی غیر معمولی عزت افزائی کی گئی۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری طرف ذرائع ابلاغ سے معلوم ہوا ہے کہ دارالحکومت دمشق کی شاہرائوں کو ایرانی لیڈروں اور تہران کی وفادار ملیشیائوں کے رہ نمائوں کے ناموں پر رکھے جا رہے ہیں۔

دمشق میں سڑکوں اور اہم چوکوں کے نام ایرانیوں کے ناموں سے منسوب کرنا شام میں ایران کے اثرو نفوذ کا واضح ثبوت ہے۔ شامی صدر بشارالاسد کی موجودگی میں ایران نے شام میں اپنے اثرو نفوذ کو خوب پھیلایا اور پروان چڑھایا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق خامنہ ای کے مندوب حمید صفار الھروندی نے شام میں پھیلی ایران نواز ملیشیائوں کو خصوصی دعوت پر بلایا اور ان کی عزت وتکریم کی گئی۔ ان ملیشیائوں کی قیادت نے ایرانی پاسداران انقلاب کے ہاتھوں عسکری تربیت حاصل کی ہے۔ سیدہ زینب کے مقام پر گذشتہ جمعرات کو بڑی تعداد میں ایرانی ملیشیائوں کےعناصر الھروندی کی دعوت پر جمع ہوئے۔

شام میں خامنہ ای کے دفتر کی طرف سے ملیشیائوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہیں۔ ان میں سے بعض عناصر کو فوجی اور بعض کو سادہ کپڑوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ دعوتی تقریب میں شرکت کرنے والے تمام جنگجو کمانڈر خامنہ ای کے مندوب کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ایک تصویر میں حمید الھرندی کو شرکا سے خطاب کرتے دیکھا جاسکتا ہے تاہم اس کی تقریر کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ الھرندی نے 'لبیک یا زینب' کے نعرے کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ادھر یہ اطلاعات بھی آئی ہیں کہ دارالحکومت دمشق میں کئی اہم مقامات، سڑکوں اور چوراہوں کے نام ایرانیوں‌ کے ناموں پر رکھے گئے ہیں۔ خاص طور پر جنوبی دمشق اور سیدہ زینب کا علاقہ ایرانیوں کی سرگرمیوں کا گڑھ بن چکا ہے۔

لندن سے شائع ہونے والے اخبار'الشرق الاوسط' کے مطابق جنوبی دمشق میں سیدہ زینب کا مقام ایران کا حصہ لگتا ہے حالانکہ اس علاقے اور سڑکوں‌ پر عسکری لباس میں کم ہی لوگوں کو دیکھا جاتا ہے۔