.

شام میں حملہ: سیٹلائٹ تصاویر میں تباہ شدہ اہداف کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی کمپنی ImageSat International نے سیٹلائٹ سے حاصل تصاویر جاری کی ہیں جن میں اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو شام کے صوبے حماہ کے شہر مصیاف میں حملہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

گذشتہ شام جاری تصاویر کے مطابق جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ہونے والے ان حملوں میں 4 عمارتیں تباہ کر دی گئیں۔ یہ جگہائیں ممکنہ طور پر میزائلوں کے انجن تیار کرنے اور میزائلوں پر وار ہیڈز کی تنصیب کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق اس حملے میں ایران کی ہمنوا ملیشیاؤں کے 6 ارکان ہلاک ہو گئے۔ المرصد نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والے تمام مسلح عناصر غیر شامی ہیں جو شامی سرکاری فوج کے شانہ بشانہ لڑائی میں شریک تھے۔ المرصد کے مطابق لبنانی اراضی کے اوپر سے داغے گئے میزائلوں نے مصیاف کے اطراف دیہی علاقے میں مختصر اور درمیانی مار کے میزائل تیار کرنے کے مراکز اور گودام تباہ کر دیے۔ یہ جگہیں ایرانی ملیشیاؤں کے زیر انتظام ہیں۔

مذکورہ حملے کی خبر پھیلنے سے چند منٹوں قبل اسرائیلی طیاروں نے لبنان کے بعض حصوں پر نیچی پروازیں کیں۔ بیروت کے لوگوں کے مطابق انہوں نے شہر کی فضا میں کئی میزائلوں کو دیکھا۔

مصیاف شہر کو ماضی میں بھی کئی مرتبہ اسرائیلی حملوں میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ یہ بشار الاسد کی حکومت کے لیے عسکری لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ایک عسکری کالج اور سائنسی تحقیق کا مرکز بھی ہے۔

واضح رہے کہ 2011ء میں تنازع کے آغاز کے بعد سے اسرائیل نے شام میں سیکڑوں حملے کیے ہیں۔ اس دوران شام میں ایرانی ملیشیاؤں اور لبنانی حزب اللہ تنظیم کے جنجگوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیل کی جانب سے شاذ و نادر ہی شام میں عسکری کارروائیوں کی تصدیق کی جاتی ہے۔ تاہم وہ ایک سے زیادہ مرتبہ یہ بات دہرا چکا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کی حمایت کرنے والا ایرانی عسکری وجود اسرائیل کے لیے خطرہ ہے۔