.

ترک فوج کی شام کے شمال مشرقی علاقے میں کارروائی،15 کرد جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک فوج نے اتوار کے روز شامی کرد ملیشیا وائی پی جی کے 15 جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔ ترکی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کرد جنگجو شام کے شمالی مشرقی علاقے میں ایک حملے کی تیاری کررہے تھے۔ شام کے اس علاقے پر ترکی اور اس کے اتحادی مسلح جنگجو گروپوں کا کنٹرول ہے۔

ترکی نے گذشتہ سال ’آپریشن امن بہار‘ کے نام سے کردملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی میں شام کے 120 کلومیٹر(75میل) کے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ترکی وائی پی جی کو ایک دہشت گرد تنظیم قراردیتا ہے اور اس کو کردستان ورکرزپارٹی (پی کے کے) کا حصہ سمجھتا ہے۔

ترک وزارتِ دفاع نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ہمارے دلیر کمانڈوؤں نے پی کے کے/وائی پی جی دہشت گرد تنظیم کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ اس کے 15 دہشت گرد امن بہار خطے میں جنوب سے دراندازی کی کوشش کررہے تھے۔انھیں ہمارے کمانڈوز نے خاموش کردیا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ ترکی نے گذشتہ سال روس اور امریکا کے ساتھ سمجھوتے کے تحت کردملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی روک دی تھی۔ترکی کو اس کے مغربی اتحادیوں نے وائی پی جی کے خلاف کارروائی پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ کرد جنگجوؤں پر مشتمل اس ملیشیا نے شام میں امریکا کی داعش کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

روس کا کہنا ہے کہ وائی پی جی ترکی کی سرحد سے کم سے کم 30 کلومیٹر پیچھے ہٹ چکی ہے لیکن اس کے باوجود ترکی نے بچے کھچے کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔اسی کارروائی کی بناپر ترکی اور امریکا کے درمیان ماضی میں اختلافات رہے ہیں۔

ترکی شامی صدربشارالاسد کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے لیے مسلح جدوجہد کرنے والے شامی جنگجو گروپوں کی حمایت کرتا رہا ہے جبکہ روس اور ایران بشارالاسد کی وفادار فورسز کی حمایت کررہے ہیں۔ان کی اس فوجی مددوحمایت کی بدولت ہی بشارالاسد شام میں گذشتہ ایک عشرے سے جاری خانہ جنگی میں اپنا اقتدار بچانے میں کامیاب رہے ہیں اور اس وقت ان کی وفادار فوج کا ملک کے قریباً 70 فی صد علاقوں پر کنٹرول قائم ہوچکا ہے۔