.

پہاڑوں میں‌ گھری آثار قدیمہ پر مشتمل سعودی عرب کے شمال میں ایک تفریح گاہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شمالی شہر حائل میں‌ پہاڑوں میں گھری ایک ایسی خوبصورت تفریح گاہ بہت سے سیاحوں کی نظروں سے اوجھل رہی ہے مگر اب سیاح اس طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ یہ تفریح گاہ اپنے بہترین محل وقوع اور قدرتی حسن کی وجہ سے شہرت رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر آثار قدیمہ کا بھی ایک بڑا ذخیرہ سموئے ہوئے ہے۔ سنگلاخ چٹانیں، پہاڑی چوٹیاں، ان کے بیچ پانی کے بہتے جھرنے اور ہرے بھرے جنگلات دیکھنے والوں پر سحر طاری کر دیتے ہیں۔

KSA: Mountains

اس خوبصورت پہاڑی سیرگاہ کو 'المسمیٰ' کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ کئی پہاڑوں سلسلوں کے درمیان ہے۔ان میں پہاڑ کو جبال محجر کہا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ جنوب میں العرقوب، شمال میں عالج تک پھیلا ہوا ہے اور ان کے درمیان 'آلات' نامی ایک وادی ہے۔ اس وادی کے قریب نچلی سطح کے پہاڑوں میں غضب، صھیہ، المذیبح، السطحیہ، العوجا اور جبل مخروقہ واقعہ ہیں۔ یہ سب مل کر وادی المسمٰی کے قدرتی حسن کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ یہاں پر ہائیکنگ کےشوقین اپنا یہ شوق بھی پورا کر سکتے ہیں۔

KSA: Mountains

ایم مقامی فوٹو گرافر عادل المسمار نے اس مقام کی تصاویر بھی لی ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے المسمار نے کہا کہ ان پہاڑوں سے ستاروں کی راستوں کا اندازہ لگانا زیادہ آسان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان پہاڑوں کو ستاروں کی رسد گاہ بھی کہا جاتا ہے۔

KSA: Mountains

جبال المسمیٰ صرف مقامی سیاحوں ہی کے لیے کشش نہیں رکھتی بلکہ خطے میں سیاحت کے لیے آنے والے مغربی سیاح بھی اس کی سیر کر چکے ہیں۔ ایک جرمن سیاح لوئس اوٹیگ اور فرانسیسی چالرز ہوبر نے 1884ء جب کہ برطانوی گیریٹرو ڈیبل، چوسلوفاکیہ کے لوئس مزول اور چار ڈاوتی نے 1885ء کو اس علاقی سیر کی۔ ایک اطالوی سیاح کارلو گورمانی نے 1860ء میں اس علاقے کی سیاحت کے بعد یہاں کی سیاحت پر ایک کتاب لکھی۔ فرانسیس سیاح ہول اور جرمن سیاح نے 135 سال قبل اس علاقے میں موجود قدیم عربی نقوش اور آثار قدیمہ کی نشاندہی کی تھی۔