.

امریکا اور ایران میں‌ کشیدگی، اسرائیل ممکنہ حملے کی جوابی کارروائی کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بڑھتے واقعات کے بعد اسرائیلی فوج نے کسی بھی ممکنہ آپریشن کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کی ریزرو فورس میں مزید بھرتی بھی شروع کی گئی ہیں۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری طرف امریکا کی جانب سے ایران پر حملےکی منصوبہ بندی کا انکشاف ہوا ہے۔ امریکا کی طرف سے خطے میں جنگی طیارے اور بھاری اسلحہ منتقل کیا ہے۔ امریکا نے پہلی بار اپنی ایک جنگی آبدوز خلیجی پانیوں تک پہنچائی ہے جس پر '150' ٹوما ہاک' میزائل نصب ہیں۔

بعض ذرائع ابلاغ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران کی طرف سے خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات پر حملہ ہوسکتا ہے۔ ایران اس وقت سخت غصے میں ہے کیونکہ گذشتہ ماہ چوٹی کے جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل کے بعد امریکا کے ساتھ تہران کی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اس کےعلاوہ کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کی پہلی برسی کے موقعے پردونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

ایران نے کہا ہےکہ وہ خطے میں پہنچائے گئے امریکا کے جدید ترین ہتھیاروں اور اس کی فضائی، بری اور بحری فواج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب امریکا نے واضح‌کیا ہے کہ واشنگٹن ایران کو خطے میں کسی قسم کے دہشت گردانہ حملے کی اجازت نہیں دے گا۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے اپنی ایک جوہری آبدوز خلیجی ملکوں کے پانیوں تک پہنچائی ہے تاکہ ایران کی طرف سے درپیش کسی بھی ممکنہ خطرے کا تدارک کیا جا سکے۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق جوہری آبدوز' ایس ایس جارجیا' ایران کے لیے ایک پیغام ہے کہ امریکا خطے میں اپنے اتحادیوں کےدفاع کا پابند ہے۔ اس آبدوز پر ٹاما ہاک طرز کے150 میزائل نصب ہیں۔