.

ہیکروں نے لبنانی حزب اللہ کا بنک ہیک کر لیا، حساس معلومات چوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سائبر ہیکرز نے لبنانی حزب اللہ سے وابستہ القرض الحسن فاؤنڈیشن کے بنک کے کمپیوٹر سسٹم میں گھس کر اہم معلومات چوری کر لیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق خود کو "اسپائیڈرز" کہنے والے ہیکروں نے لبنان کے اس بنک کی تمام شاخوں میں قرض لینے والوں اور رقوم جمع کرنے والوں کی حاصل کرنے کے بعد انہیں شایع کر دیا۔ خیال رہے کہ لبنان میں حزب اللہ کے بینک کو عسکریت پسندی کی مالی اعانت اور منی لانڈرنگ کا ایک بڑا ذریعہ قرار یا جاتا ہے۔ یہ بنک بھی امریکی پابندیوں کی فہرست میں آ چکا ہے۔

ہیکروں نے بتایا کہ انہوں‌ نے حزب اللہ کے بنک میں‌نقب لگا کر قرض کی مالیت ، ادائیگی کی شرح ، قرض دہندگان کے بارے میں ذاتی معلومات اور برانچوں اور ادارے کے بجٹ سے سال 2019 اور 2020 کے بارے میں تفصیلات حاصل کرلیں۔ ہیکروں‌ کا کہنا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں مزید اہم تفصیلات افشا کریں گے۔

ہیکروں نے مطالبہ کیا کہ قرض لینے والے اور جمع کنندگان جو "قرض حسنہ" بنک کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں حزب اللہ کی متوازی معیشت اور اس کے ریاستی وسائل کا بھتہ لینے کا بائیکاٹ کریں جس نے ملک کا معاشی دیوالیہ نکال دیا ہے۔

ہیکنگ آپریشن سے جمال ٹرسٹ بینک کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ بنک قرض حسنہ فاؤنڈیشن کے زیرانتظام ہے جسے امریکا نے سنہ 2019ء کو بلیک لسٹ کر دیا تھا۔