.

سلیمانی کی حماس تنظیم کو کروڑوں ڈالروں کی فراہمی ، ایرانی پاسداران انقلاب کا جواز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چند روز قبل فلسطینی تنظیم حماس کے ایک سینئر رہ نما محمود الزہار نے انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی سے پہلی ملاقات کے دوران 2.2 کروڑ ڈالر کی رقم وصول کی تھی۔ اس بیان کے بعد ایرانی حلقوں میں تنازع کھڑا ہو گیا۔ اس کے جواب میں پاسداران انقلاب نے ملک سے کروڑوں ڈالر باہر جانے کا جواز پیش کیا ہے جب کہ ایرانی عوام کی اکثریت سنگین معاشی اور اقتصادی بحرانات سے دوچار ہے۔

گذشتہ دو روز کے دوران ٹویٹر پر "ڈالروں کے بیگز" کا ٹرینڈ کافی سرگرم رہا۔ اس دوران ایرانی عوامی حلقوں نے عوام کی معاونت کے بجائے بیرونی تنظیموں اور گروپوں کو امداد فراہم کیے جانے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ادھر ایران پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف کے نائب محمد باقر ذو القدر کا کہنا ہے کہ قاسم سلیمانی "یہ مالی وسائل خود سے" فراہم کرتا تھا۔ ذو القدر کا شمار ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کے مقرب افراد میں ہوتا ہے۔

منگل کے روز خبر رساں ایجنسی "تسنیم" سے گفتگو کرتے ہوئے ذو القدر نے کہا کہ "اسے (سلیمانی کو) اپنی سرگرمیوں کی فنڈنگ میں جتنی بھی مشکلات کا سامنا ہوتا مگر وہ کسی بھی صورت حال کو المیہ نہیں گردانتا تھا۔ مثلا اگر حکومت کو کسی منصوبے کی فنڈنگ میں دشواری پیش آتی تھی تو وہ فنڈنگ کے ذرائع تخلیق کرتا تھا اور فراہم کرتا تھا"۔

ذوالقدر نے ان ذرائع کے حوالے سے تفصیلات واضح نہیں کیں۔ انہوں نے القدس فورس کے سابق کمانڈر کی آمدنی کی نوعیت کی تفصیلات کا بھی ذکر نہیں کیا۔ ذو القدر نے یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ "مجھے تفصیلات بتانے کی ضرورت نہیں ہے"۔

یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی مالی رقوم اور تیل کی آمدنی کو فلسطین میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے لیے بھیجے جانے کے معاملے نے ایران میں وسیع تنازع پیدا کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ فلسطینی تنظیم حماس کے اہم رہ نما محمود الزہار نے اتوار کے روز ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ 2006ء میں جب انہوں نے بطور فلسطینی وزیر خارجہ تہران کا دورہ کیا تو اس موقع پر قاسم سلیمانی نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو 2.2 کروڑ ڈالر کی رقم پیش کی۔ یہ رقم کئی بیگوں میں رکھی گئی تھی۔ الزہار کے مطابق سلیمانی کے ساتھ اس سے زیادہ رقم پر اتفاق رائے ہوا تھا مگر چوں کہ ہم 9 ہی افراد تھے لہذا ہم اس سے زیادہ رقم نہیں اٹھا سکتے تھے۔

دوسری جانب لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے اتوار کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں تصدیق کی تھی کہ قاسم سلیمانی میزائلوں اور عسکری ساز و سامان کے علاوہ حزب اللہ کو ایرانی تیل کی آمدنی سے بڑے پیمانے پر مالی امداد فراہم کیا کرتا تھا۔ یہ فراہمی لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوتی تھی۔