.

ایران کے ہاتھوں گرنے والے طیارے کے لیے فی کس 1.5 لاکھ ڈالر ہرجانہ ، یوکرائن کا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرائن نے ایران کے ہاتھوں اپنے مسافر طیارے کے مار گرائے جانے پر تہران کی جانب سے ہرجانے کے طور پر فی کس 1.5 لاکھ امریکی ڈالر مختص کیے جانے پر احتجاج کیا ہے۔

آج جمعرات کے روز یوکرائن کا کہنا ہے کہ تقریبا ایک سال قبل طیارے کے مار گرائے جانے میں موت کا شکار ہونے والوں کے لیے زر تلافی کا تعین مذاکرات کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔

ایرانی حکومت نے بدھ کے روز اپنے اجلاس میں منظوری دی تھی کہ یوکرائن کے بدقسمت طیارے کے حادثے کا شکار ہونے والے ہر فرد کے لیے 1.5 لاکھ امریکی ڈالر یا اس کے مساوی یورو کی رقم ادا کی جائے گی۔

دوسری جانب سڑکوں اور شہری ترقی کے ایرانی وزیر محمد اسلامی نے یوکرائن کے طیارے کو مار گرائے جانے کے واقعے کی تحقیقات اختتام پذیر ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق حتمی تحریر متعلقہ ممالک کے حوالے کر دی گئی ہے۔ ایران کی شہری ہوابازی کی تنظیم رپورٹ کو جلد جاری کرے گی۔ ایرانی وزیر کے مطابق تحقیقات میں یوکرائن کی فضائی کمپنی اور امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ بھی شریک رہی۔

یاد رہے کہ رواں سال 8 جنوری کو ایرانی فضائی دفاعی نظام نے یوکرائن کا ایک بوئنگ 737 مسافر طیارہ مار گرایا تھا۔ طیارے نے تہران کے جنوب مغرب میں واقع "خمینی ایئرپورٹ" سے اڑان بھری تھی جس کے چند منٹوں کے بعد ہی اسے نشانہ بنایا گیا۔ واقعے میں جہاز میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہو گئے۔ ان کا تعلق ایران، یوکرائن، کینیڈا، برطانیہ، سویڈن، جرمنی اور افغانستان سے تھا۔