.

سعودی عرب: "انجینئرنگ خلیات" کے ذریعہ جین تھراپی کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں سائنسدانوں نے کینسر کے خلاف مدافعتی نظام کو مزید فعال بنانے کے لیے 'انجینیرنگ خلیات' کے ذریعے جین تھراپی کے ایک نئے تجربے پرکام شروع کیا ہے۔

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم شاہ فیصل اسپیشلسٹ اسپتال اور ریسرچ سینٹر نے خون میں مدافعتی لیمفاسائٹس کو دوبارہ انجینئرنگ کے ذریعے "ایڈوانس جینیاتی امیون تھراپی" کے پروگرام شروع کیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد کینسر کے خلیوں کو ختم کرنے اور کینسر خلیات پرحملہ کرنے والے خلیوں میں تبدیل کرنا ہے تاکہ نئے اور جدید علاج کے طریقہ کار کے طور پر کینسر کے کیسز پر قابو پا جا سکے۔ خیال رہےکہ یہ طریقہ علاج پچھلے دو سال میں امریکا اور یورپ میں اپنایا گیا ہے جسے طب کی زبان میں CAR-T سیل کہا جاتا ہے۔

علاج کے طریقہ کار سے کینسر کے کچھ پیچیدہ معاملات کا علاج کرنے کے لیے مریض کے مدافعتی نظام کے استعمال پر انحصار کیا جاتا ہے جو اب علاج معالجے کے موجودہ طریقوں جیسے کیموتھراپی ، تابکاری ، امیونو تھراپی اور اسٹیم سیل ٹرانسپلانٹیشن کا متبادل ہیں۔

شاہ فیصل اسپتال میں پہلا تجربہ ایک 13 سالہ بچے کے علاج پر کیا جا رہا ہےجو شدید لیمفوسائٹک لیوکیمیا کا شکار ہے۔ یہ بچہ علاج کے موجودہ طریقوں سے صحت یاب نہیں ہو رہا تھا۔

شاہ فیصل اسپیشلسٹ اسپتال اور ریسرچ سنٹر کی جنرل آرگنائزیشن کے ایگزیکٹو کمیٹی کے سپروائزر ڈاکٹر ماجد الفیاض نے وضاحت کی کہ بین الاقوامی سطح پر اس علاج کا آغاز امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے منظوری کے بعد دو سال کے اندر اندر شروع کیا گیا تاکہ مریضوں کے علاج معالجے کے جدید طریقے اپنائے جا سکیں۔