.

سعودی عرب کے عدالتی نظام میں بے جا مداخلت قبول نہیں: سعودی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب ڈاکٹر عبدالعزیز الواصل نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی عدالتیں ہر طرح کے دباو سے آزاد ہیں اور وہ شفاف اور منصفانہ فیصلے کرتی ہیں۔

سعودی عرب کی عدلیہ پر کسی بیرونی طاقت کی طرف سے تنقید ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے عدالتی نظام پر انگلی اٹھانے والے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ ہم مملکت کی عدلیہ کے معاملے میں کسی کی مداخلت قبول نہیں کریں‌ گے۔

سعودی مندوب نے اقوام متحدہ کی ڈپٹی ہائی کمشنر ندیٰ الناشف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے حالیہ چند برسوں کے دوران خواتین کے حقوق کے میدان میں کئی اہم اور تاریخی اقدامات کیے ہیں۔ مملکت سعودی خواتین کو با اختیار بنانے کے کئی پروگرامات پر کام کر رہا ہے اور ہم ہر میدان میں خواتین کے لیے مواقع پیدا کررہے ہیں۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد کی طرف سے خواتین کے حقوق کو یقینی بنانے اور انہیں با اختیار بنانے کے واضح احکامات موجود ہیں اور ان کے احکامات کی روشنی میں اصلاحات کی جا رہی ہیں۔

ڈاکٹر واصل نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے عہدیدار سے مطالبہ کیا کہ وہ سعودی عرب میں انسانی حقوق کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش نہ کریں اور سعودی عرب کی خود مختاری اور عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کریں۔

خیال رہے کہ حال ہی میں سعودی عرب کی ایک عدالت کی طرف سے ایک خاتون کو قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا پر بعض حلقوں کی طرف سے تنقید کی جا رہی ہے۔