.

مقتول قاسم سلیمانی کی تصاویر پرعراق اور فلسطین میں عوامی غیظ و غضب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوشل میڈیا پر سرگرم عراقی حلقوں نے وڈیو کلپس جاری کیے ہیں۔ان میں ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی اور عراق کی شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کے نائب کمانڈر ابو مہدی المہندس کی تصاویر کو جلاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ دونوں افراد جنوری 2020ء میں امریکی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔

غزہ میں بھی فلسطینیوں نے قاسم سلیمانی کی ٱویزاں تصاویر پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور انھیں پھاڑ دیا ہے۔

عراقی ذرائع ابلاغ کے مطابق نینویٰ پولیس کی کمان میں سیکورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ الحشد الشعبی ملیشیا نے شرعی علاقے الاصلاح میں تین افراد کو گرفتار کر لیا۔ ان افراد پر الحشد ملیشیا کی جانب سے شہر کی سڑکوں پر آویزاں کی گئی تصاویر کو پھاڑنے کا شُبہ ہے۔۔

ذرائع نے واضح کیا کہ الحشد الشعبی کی ٹولیوں نے موصل شہر میں کئی علاقوں میں چھاپوں اور تلاشی کی کارروائی کی تا کہ سلیمانی اور المہندس کی تصاویر جلانے والے نا معلوم افراد کا پتا چلایا جا سکے۔

دوسری جانب غزہ میں فلسطینیوں نے مقتول قاسم سلیمانی کی تصاویر کو پھاڑ ڈالا۔ دو روز قبل غزہ پر کنٹرول رکھنے والی حماس تنظیم نے قاسم سلیمانی کی برسی قریب آنے پر سڑکوں پر ان کی تصاویر لگائی تھیں۔ حماس کے ایران کی جانب سے فنڈنگ وصول کرنے کے سرکاری اعتراف کے بعد فلسطینی اور عرب عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

فلسطینیوں نے ایسے شخص کی برسی کو مسترد کردیا ہے جس کے ہاتھ ہزاروں شامی اور عراقی شہریوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔

حماس کے سینئر رہ نما محمود الزہار نے گذشتہ اتوار کو ایک ایرانی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں پہلی مرتبہ واضح طور پر انکشاف کیا تھا کہ قاسم سلیمانی نے 2006ء میں حماس کی سپورٹ کے لیے 2.2 کروڑ ڈالر الزہار کے حوالے کیے تھے۔

مبصرین کے نزدیک فلسطینی عوام نے حماس کی جانب سے سلیمانی کی برسی منانے کو اس واسطے مسترد کردیا ہے کہ ایرانی مقتول کمانڈر پر فلسطینی معاملات میں مداخلت اور خطے میں ایرانی ایجنڈوں پر عمل درٱمد کے لیے فلسطینیوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کے الزامات ہیں۔