.

اسرائیل نہایت محتاط رہ کر ترکی کے ساتھ تعلقات کی بہتری کی جانب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکومت نے ترکی کے ساتھ غیر سرکاری رابطوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کا مقصد اس بات کا تعین کرنا ہے کہ ترکی کی نیت اور ارادے میں کتنی سچائی ہے۔ یہ بات دو اسرائیلی ذمے داران نے امریکی ویب سائٹ Axios کو بتائی۔ گذشتہ ہفتے ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر بنا کر انہیں زیادہ اچھے مقام پر لے جانا چاہتے ہیں۔
اسرائیل اور ترکی جو ایک دوسرے کے قریبی حلیف تھے ،،، ان کے درمیان تعلقات کا بگاڑ 2008ء میں شروع ہوا اور پھر یہ مستقل بحرانی صورت اختیار کر گیا۔ گذشتہ کئی ہفتوں سے ترکی کی جانب سے اسرائیل کو واضح اشارے بھیجے جا رہے تھے جن کا مقصد انقرہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی پر اسرائیل کو آمادہ کرنا ہے۔
گذشتہ جمعے کے روز ایردوآن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ترکی نے انٹیلی جنس چینلوں کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھے ہیں"۔
ترک صدر نے مزید کہا کہ ان کا ملک فلسطینیوں کے حوالے سے اسرائیلی پالیسی کو قبول نہیں کر سکتا۔ تاہم ایردوآن نے واضح کیا کہ "ہمارے دل اس بات کے خواہش مند ہیں کہ ان (اسرائیل) کے ساتھ تعلقات کو بہتر نقطے پر پہنچائیں"۔
امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت اس حوالے سے ابھی تک غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے کہ وہ ترکی کی جانب سے آنے والے اشاروں کو کس طرح پڑھے۔ البتہ اسرائیلی وزیر خارجہ گیبے اشکینازے نے ایردوآن کے بیان کے بعد اس حوالے سے بدھ کے روز وزارت خارجہ میں ایک اجلاس کا انعقاد کیا۔ اجلاس میں وزیر اعظم کے دفتر ، وزارت دفاع اور اسرائیلی انٹیلی جنس موساد کے سینئر ذمے داران نے شرکت کی۔
اجلاس سے با خبر اسرائیلی ذمے داران کے مطابق اسرائیل نے ایردوآن کے بیان پر کسی علانیہ سرکاری رد عمل کا اظہار نہیں کیا ،،، اور ترک حکومت کے ساتھ انفرادی طور پر رابطے کی کوشش کی جائے گی۔


اسرائیلی ذمے داران سمجھتے ہیں کہ ایردوآن کا نیا لہجہ براہ راست طور پر منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کے آئندہ تقرر کے ساتھ مربوط ہے۔ ایردوآن جن کو بائیڈن پہلے ہی "مطلق العنان" شخصیت قرار دے چکے ہیں ،،، انہیں تشویش ہے کہ نئے امریکی صدر ترکی کے حوالے سے سخت موقف اپنائیں گے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی ممکنہ طور پر جو بائیڈن کے سامنے ان کے نمبر بڑھا سکتی ہے۔
اسرائیلی ذمے داران کا کہنا ہے کہ وہ ایردوآن کی حقیقی نیت کے حوالے سے شکوک کے پیش نظر انتہائی خبردار رہیں گے۔ بہرکیف اسرائیل کسی بھی طور ترکی سے تعلقات بہتر بنانے کی خاطر یوان اور قبرص کے ساتھ اپنے تعلقات کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔